🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
182. فيما يخفف به عذاب القبر
جن چیزوں سے عذاب قبر میں کمی ہوتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12169 ترقیم الشثری: -- 12416
١٢٤١٦ - حدثنا وكيع عن الاسود بن شيبان قال: حدثني بحر بن (مرار) (١) عن جده ابي بكرة قال: كنت امشي مع (النبي ﷺ) (٢) فمر على قبرين فقال:"إنهما ليعذبان، من (ياتيني) (٣) بجريدة؟" (فاستبقت) (٤) انا ورجل فاتينا بها، قال: فشقها من راسها فغرس على (هذا) (٥) واحدة، وعلى (هذا) (٦) واحدة، وقال:"لعله" (٧) (ان) (٨) يخفف عنهما ما بقي فيهما من (بلولتهما) (٩) شيء، (إن يعذبان) (١٠) (في) (١١) الغيبة والبول" (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ص]: (مروان).
(٢) في [ز]: (الناس).
(٣) في [أ، ز]: (يأتني).
(٤) في [أ]: (فاستققت)، وفي [هـ]: (فاسبقت).
(٥) في [أ، ب]: (هذه).
(٦) في [أ، ب]: (هذه).
(٧) في [هـ]: (لعل).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [ز]: (بلواتهما)، وفي [ص]: (بلويها).
(١٠) سقط من: [ص]، وفي [هـ]: (كانا يعذبان).
(١١) في [ص]: (يعني)، وفي [أ، ب، ز]: (لفي).
(١٢) منقطع، بحر بن مرار لم يسمع من جده، أخرجه أحمد (٢٠٤١١)، وابن ماجه (٣٤٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٢٧، والطيالسي (٨٦٧)، والطبراني في الأوسط (٣٧٥٩)، وابن عدي ٢/ ٤٨٧، والعقيلي ١/ ١٥٤، والطحاوي في شرح المشكل (٥١٩١)، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (١٢٤)، والبزار (٣٦٣٦).

حدثنا وكيع ، عن الاسود بن شيبان ، قال: حدثني بحر بن مرار ، عن جده ابي بكرة ، قال: كنت امشي مع النبي صلى الله عليه وسلم فمر على قبرين فقال: " إنهما ليعذبان، من ياتيني بجريدة"، فاستبقت انا ورجل، فاتينا بها قال:" فشقها من راسها , فغرس على هذا واحدة , وعلى هذا واحدة" وقال:" لعله يخفف عنهما ما بقي فيهما من بلولتهما شيء، إن يعذبان في الغيبة والبول".
حضرت بحر بن مرار اپنے دادا حضرت ابو بکرہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں پر گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، کون ہے جو میرے پاس کھجور کی لکڑی لے کر آئے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک شخص نے جلدی کی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی لکڑی لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرے سے لکڑی کو چیر کردو حصوں میں تقسیم فرمایا اور ایک کو ایک قبر پر اور دوسری کو دوسری قبر پر گاڑ دیا، اور فرمایا: جب تک کہ ان لکڑیوں میں تری موجود ہے شاید کہ اس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کمی ہوجائے، ان کو عذاب غیبت اور پیشاب (کے قطروں سے نہ بچنے کی وجہ سے) ہو رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12416، ترقيم محمد عوامة 12169)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12416 in Urdu