🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
187. في نفس المؤمن كيف (تخرج) ونفس الكافر
مؤمن کی روح کس طرح قبض کی جاتی ہے اور کافر کی روح کس طرح قبض کی جاتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12188 ترقیم الشثری: -- 12434
١٢٤٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون (اخبرنا) (١) محمد بن (عمرو) (٢) عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: إن الميت ليسمع خفق نعالهم حين يولون عنه مدبرين، فإن كان مؤمنا كانت الصلاة عند راسه وكانت الزكاة عن يمينه وكان الصيام عن يساره وكان فعل الخيرات من الصدقة (والصلة) (٣) والمعروف (٤) والإحسان إلى الناس عند رجليه، (فيؤتى) (٥) من قبل راسه (فتقول) (٦) الصلاة: ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (٧) عن يمينه (فتقول) (٨) الزكاة: ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (٩) عن يساره فيقول الصيام (١٠) : ما قبلي مدخل، (ويؤتى) (١١) من قبل رجليه (فيقول) (١٢) فعل الخير: ⦗٢٣٣⦘ من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس (فيقول) (١٣) (١٤) : ما قبلي مدخل. (قال) (١٥) : فيقال له: اجلس، (فيجلس) (١٦) قد (مثلت) (١٧) له الشمس (تدانت) (١٨) للغروب، فيقال له: اخبرنا عن ما نسالك عنه فيقول: دعوني حتى اصلي، فيقال له: إنك ستفعل، فاخبرنا عما نسالك، فيقول: و (عم) (١٩) (تسالوني) (٢٠) ؟ (فيقولون) (٢١) : ارايت هذا الرجل الذي كان فيكم ما تقول فيه؟ (و) (٢٢) ما تشهد به عليه؟ قال: فيقول محمد، فيقال له: نعم، فيقول: اشهد انه رسول الله ﷺ وانه (جاء) (٢٣) بالبينات من عند الله فصدقناه، فيقال (له) (٢٤) : على ذلك (حييت) (٢٥) وعلى ذلك مت، وعلى ذلك تبعث، إن شاء الله (تعالى) (٢٦) . ثم (يفسح له في قبره سبعون ذراعا وينور له فيه، ثم) (٢٧) يفتح له باب إلى الجنة فيقال له: انظر إلى ما ⦗٢٣٤⦘ اعد الله لك فيها (٢٨) ، فيزداد غبطة وسرورا، (ثم يفتح له باب إلى النار فيقال له: ذلك مقعدك وما اعد الله لك فيها لو عصيته فيزداد غبطة وسرورا) (٢٩) ، ثم (يجعل) (٣٠) (نسمة) (٣١) من (النسم) (٣٢) الطيب (وهو) (٣٣) طير خضر (تعلق) (٣٤) (بشجر) (٣٥) الجنة ويعاد (الجسم) (٣٦) إلى ما بدا منه من التراب، فذلك (قول الله) (٣٧) تعالى: ﴿يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة﴾ [إبراهيم: ٢٧] (٣٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (انبأنا).
(٢) في [أ]: (عمر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) زيادة كلمتين غير واضحتين في: [أ].
(٥) في [هـ]: (فيأتي).
(٦) في [ب]: (فيقول).
(٧) في [هـ]: (ويأتي).
(٨) في [هـ]: (فيقول).
(٩) في [هـ]: (ويأتي).
(١٠) في [أ، ب]: زيادة (و).
(١١) في [هـ]: (ويأتي).
(١٢) في [ب]: (ويقول).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ز].
(١٤) في [أ، ب]: زيادة (و).
(١٥) سقط من: [ص، ز].
(١٦) في [ص]: (فجلس)، وسقطت من: [هـ].
(١٧) في [ص]: (ميك).
(١٨) في [ص]: (فدانت)، وفي [ز]: (قد دنت).
(١٩) في [ص]: (دعوم).
(٢٠) في [ص]: (تسألون)، وكذا في: [ز].
(٢١) في [ص]: (فيقول).
(٢٢) سقط من: [ب].
(٢٣) في [ص]: (حماء).
(٢٤) سقط من: [أ، ب].
(٢٥) في [ص]: (حبت).
(٢٦) سقط من: [أ، ب، ز].
(٢٧) في [ص]: سقط ما بين القوسين.
(٢٨) في [أ، ب]: زيادة (لو عصيته).
(٢٩) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣٠) في [ص]: (جعل).
(٣١) في [ص]: (تسمته).
(٣٢) في [ص]: (التسليم).
(٣٣) في [ص]: (وهي).
(٣٤) في [ص]: (يعلق).
(٣٥) في [أ، ب]: (شجر).
(٣٦) في [هـ]: (الجسم).
(٣٧) في [ز]: (قوله).
(٣٨) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، وأخرجه عبد الرزاق (٦٧٠٣)، وابن جرير في التفسير ١٣/ ٢١٥، وسبق أوله في حديث مرفوع ٣/ ٣٧٨.

حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة ، قال:" إن الميت ليسمع خفق نعالهم حين يولون عنه مدبرين، فإن كان مؤمنا كانت الصلاة عند راسه، وكانت الزكاة عن يمينه، وكان الصيام عن يساره، وكان فعل الخيرات من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس عند رجليه، فيؤتى من قبل راسه فتقول الصلاة: ما قبلي مدخل، وياتي عن يمينه فتقول الزكاة: ما قبلي مدخل، وياتي عن يساره فيقول الصيام: ما قبلي مدخل، وياتي من قبل رجليه فيقول فعل الخير من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس فيقول: ما قبلي مدخل قال: فيقال له: اجلس فيجلس قد مثلت له الشمس قد دنت للغروب فيقال له: اخبرنا عن ما نسالك عنه فيقول: دعوني حتى اصلي فيقال له: إنك ستفعل، فاخبرنا عما نسالك فيقول: وعم تسالوني؟ فيقولون: ارايت هذا الرجل الذي كان فيكم ما تقول فيه وما تشهد به عليه؟ قال: فيقول محمد: فيقال له: نعم، فيقول اشهد انه رسول الله، وانه جاء بالبينات من عند الله فصدقناه فيقال له: على ذلك حييت وعلى ذلك مت وعلى ذلك تبعث إن شاء الله تعالى، ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا وينور له فيه، ثم يفتح له باب إلى الجنة فيقال له: انظر إلى ما اعد الله لك فيها فيزداد غبطة وسرورا ثم يفتح له باب من النار فيقال له: ذلك مقعدك من النار وما اعد الله لك فيها لو عصيته فيزداد غبطة وسرورا ثم يجعل نسمة من النسم الطيب , وهو طير خضر تعلق بشجر الجنة , ويعاد الجسم إلى ما بدا منه من التراب , فذلك قول الله تعالى: يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة سورة إبراهيم آية 27"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک میت جوتوں کی آواز سنتا ہے جب وہ اس کو دفنا کر واپس جاتے ہیں، پھر اگر مؤمن ہو تو نماز اس کے سر کے پاس ہوتی ہے، زکوٰۃ اس کی داہنی جانب اور روزہ اس کے بائیں جانب اور اس کے نیک اعمال، صدقہ، صلہ رحمی، اور لوگوں کے ساتھ احسان اس کے پاؤں کے پاس ہوتے ہیں، پھر وہ عذاب سر کی طرف سے آئے گا تو نماز کہے گی، نہیں ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے، اگر آئے گا اس کے دائیں جانب سے تو زکوٰۃ کہے گی میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے، اس کے بائیں جانب سے آئے گا تو روزہ کہے گا میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر اس کے پاؤں کی جانب سے آئے گا تو اس کے اچھے اعمال صدقہ، صلہ رحمی اور احسان کہیں گے، ہماری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے۔ پھر اس کو کہا جائے گا، بیٹھ جا، وہ بیٹھ جائے گا تو اس کو ایسا لگے گا جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہو، فرشتے اس کو کہیں گے جو ہم تجھ سے سوال کریں گے اس کا جواب دے، وہ کہے گا مجھے چھوڑو تاکہ میں نماز ادا کرلوں، اس کو کہا جائے گا بیشک تو یہ ادا کرچکا ہے، ہمیں بتا جو ہم تجھ سے سوال کریں گے، وہ کہے گا تم مجھ سے کیا سوال پوچھتے ہو؟ وہ کہیں گے کیا تو اس شخص کو دیکھتا ہے جو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا اس کے متعلق کیا کہتا ہے؟ اور تو اس کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے؟ وہ پوچھے گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)؟ اس کو کہا جائے گا ہاں، تو وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلائل لے کر آئے تھے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، اس کو فرشتے کہیں گے، اسی پر تو زندہ تھا، اسی پر تجھے موت آئی اور اسی پر تو دوبارہ اٹھایا جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ پھر اس کی قبر ستر گز لمبی کردی جائے گی اور اس میں اس کے لیے روشنی کردی جائے گی پھر اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا، اور اس کو کہا جائے گا دیکھ جس کا اللہ تعالیٰ نے تجھ سے وعدہ فرمایا تھا، اس کے سرور اور خوشی میں اضافہ ہوجائے گا، پھر ایک دروازہ جہنم کی طرف کھولا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا تیرا ٹھکانہ یہ ہوتا جس کا اللہ نے تجھ سے وعدہ فرمایا تھا اگر تو نافرمانی کرتا، اس کی خوشی میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کے لیے خوشبودار ہوا (باد نسیم) چلے گی اور وہ سبز رنگ کا پرندہ ہے جو جنت کے درخت کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ اور اس کے جسم کو لوٹا دیا جائے گا جس مٹی سے اس کو پیدا کیا گیا تھا، اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قول ہے: { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ }۔ محمد راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن حکم بن ثوبان نے فرمایا: پھر اس کو کہا جائے گا دلہن کی طرح آرام سے سو جا اس کو نہیں اٹھاتا مگر اس کے گھر میں محبوب شخص یعنی خاوند، یہاں تک کہ اس کو اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اٹھائیں گے۔ محمد راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ کافر تھا تو اس کے سر کے جانب لایا جائے گا وہ عذاب اس کے لیے کچھ نہ پائے گا، پھر اسے کے بائیں جانب لایا جائے گا نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، پھر اس کے بائیں جانب لایا جائے گا تو نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، پھر اس کے پاؤں کی جانب لایا جائے گا نہیں پائے گا اس کے لیے کچھ، اس کو کہا جائے گا، بیٹھ جا، وہ خوف زدہ انداز میں بیٹھے گا، اس کو کہا جائے گا جو ہم پوچھیں اس کا جواب دے، وہ کہے گا تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اس کو کہا جائے گا، یہ شخص جو تم میں تھا تو اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اور اس کے متعلق کیا گواہی دیتا ہے؟ وہ پوچھے گا کونسا شخص؟ اس کو کہا جائے گا جو تمہارے درمیان تھا، وہ ان کے نام کی طرف رہنمائی نہیں پائے گا، اس کو کہا جائے گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، تو وہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں سے اس کے متعلق سنا تھا تو جس طرح انہوں نے کہا اسی طرح میں نے کہا، اس کو کہا جائے گا اسی پر تو زندہ تھا، اسی پر تو مرا اور اسی پر دوبارہ ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اس کے لیے جہنم کی جانب ایک دروازہ کھول دیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہے جس کا اللہ نے تجھ سے وعدہ کیا تھا، اس کی حسرت اور ہلاکت میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کے لیے ایک دروازہ جنت کی طرف کھولا جائے گا، اور اس کو کہا جائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہوتا (اگر نیک اعمال کرتا ایمان لاتا) تو اس کی حسرت اور ہلاکت میں اضافہ ہوجائے گا، پھر اس کی قبر کو اس پر تنگ کردیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں مل جائیں گی، اور یہی اس کی تنگ زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: { فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12434، ترقيم محمد عوامة 12188)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12434 in Urdu