🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. الرجل (أو) المرأة يكون عليه أن ينحر بقرة، له أن يبيع جلدها
کوئی مرد یا عورت گائے قربان کرنے کی نذر مانے تو اس کی کھال کو فروخت کر سکتے ہیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12582 ترقیم الشثری: -- 12848
١٢٨٤٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن مروان بن ماهان (التيمي) (١) قال: سمعت الشعبي وسئل عن امراة نذرت ان تنحر بقرة، الها ان تبيع جلدها؟ فقال: نعم فقال ابن (اشوع) (٢) : لكني لست (ارى) (٣) ذلك، فقال الشعبي: لو قلت: ⦗٣٤١⦘ لحمها لم يكن به باس، إنما نذرت دمها فقد (اهرقت) (٤) دمها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: سقط (التميمي).
(٢) في [أ]: (شبوع).
(٣) في [أن]: (أدري).
(٤) في [جـ، ز]: (أهراقت).

حدثنا مروان بن معاوية، عن مروان بن ماهان التيمي، قال: سمعت الشعبي، وسئل عن " امراة نذرت ان تنحر بقرة , الها ان تبيع جلدها؟ فقال: نعم" , فقال ابن اشوع: لكني لست ارى ذلك , فقال الشعبي:" لو قلت لحمها لم يكن به باس , إنما نذرت دمها فقد اهرقت دمها"
حضرت مروان بن ماھان التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے گائے ذبح کرنے کی نذر مانی ہے کیا اس کے لیے اس کی کھال فروخت کرنا جائز ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، حضرت ابن اشوع نے فرمایا: لیکن میں اس کو درست خیال نہیں کرتا، حضرت شعبی نے فرمایا: اگر تو کہے اس کا گوشت (فروخت کرنا) تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس نے خون کی نذر مانی تھی جو وہ بہا چکی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12848]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12848، ترقيم محمد عوامة 12582)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12848 in Urdu