🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
213. من كره (هدمه)
جن حضرات نے بیت اللہ کے گرانے کو ناپسند سمجھا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14306 ترقیم الشثری: -- 14669
١٤٦٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء (عن ابيه) (١) قال: كنت، (آخذا) (٢) بلجام دابة عبد الله بن (عمرو) (٣) فقال: كيف انتم إذا ⦗٢٥١⦘ هدمتم هذا البيت فلم تدعوا حجرا (على حجر؟) (٤) قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: ونحن على الإسلام، (قلت) (٥) : ثم ماذا؟ قال: ثم (يبنى) (٦) احسن ما كان، فإذا رايت مكة (قد) (٧) (بعجت) (٨) (كظائم) (٩) ورايت البناء يعلو رؤوس الجبال فاعلم ان الامر قد اظلك (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: النسخ، وتم استدراكه مما سيأتي في المصنف في كتاب الفتن باب: من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها.
(٢) في [أ، ص، ن]: (آخذ).
(٣) في [ب، ن]: (عمر).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) في [أ، ب، ز، ن]: (قال).
(٦) في [ص، ز]: (بني).
(٧) في [ب]: (فد).
(٨) في [جـ، ص، ز]: (يعجب)، وفي [أ]: (نعجت)، وفي [ن]: (لعجت)؛ وانظر: أخبار مكة للفاكهي (١٧٨٧)، وغريب الحديث لابن سلام ١/ ٢٦٩، والفائق ٣/ ٢٦٣، قال ابن الجوزي في غريب الحديث ١/ ٧٨: "بعجت كظائم أي شقت وفتح كظائمها بعضها في بعض".
(٩) في [أ، ب، ن]: (تطانم)، وفي [جـ، ص، ز]: (تظائم)، وفي [ف]: (لطائم).
(١٠) مجهول؛ لجهالة عطاء العامري.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا غندر، عن شعبة، عن يعلى بن عطاء، قال: كنت آخذ بلجام دابة عبد الله بن عمر , فقال: " كيف انتم إذا هدمتم هذا البيت فلم تدعوا حجرا على حجر"؟ قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال:" ونحن على الإسلام" , قلت: ثم ماذا؟ قال:" ثم يبنى احسن ما كان , فإذا رايت مكة قد بعجت كظائم ورايت البناء يعلو رءوس الجبال , فاعلم ان الامر قد اظلك"
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام کو پکڑا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگ اس بیت اللہ کو منہدم کرو گے اور کوئی پتھر کسی پتھر پر نہیں چھوڑو گے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ایسا کیوں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: پھر اس کو اس سے اچھی تعمیر پر بنایا جائے گا، جب تم دیکھو کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی چھوٹی نہریں نکل پڑی ہیں اور تم دیکھو کہ عمارتیں پہاڑوں سے بلند ہیں تو جان لینا کہ معاملہ تمہارے قریب آگیا ہے (قیامت قریب ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 14669]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14669، ترقيم محمد عوامة 14306)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 14669 in Urdu