مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
14. في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟
کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
ترقیم عوامۃ: 16271 ترقیم الشثری: -- 16778
١٦٧٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن عوف عن انس قال: كان إذا زوج ⦗١٨٧⦘ امراة من بناته او امراة من بعض اهله قال لزوجها: ازوجك (على) (١) : ﴿ (فإمساك) (٢) بمعروف او (تسريح) (٣) بإحسان﴾ [البقرة: ٢٢٩] (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ز، س، ك].
(٢) في [جـ، ز، س، ك]: (تمسك).
(٣) في [جـ، هـ]: (تسرح).
(٤) منقطع؛ عون لم يدرك أنسًا.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن عوف، عن انس ، قال: كان إذا زوج امراة من بناته او امراة من بعض اهله، قال لزوجها:" ازوجك تمسك بمعروف او لتسرح بإحسان"
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہاپنی کسی بیٹی یا اپنے عزیزوں میں سے کسی بچی کی شادی کراتے تو اس کے خاوند سے کہتے کہ میں اس کی شادی اس بات پر کرتا ہوں کہ تم امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کروگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16778]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16778، ترقيم محمد عوامة 16271)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 16778 in Urdu