🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. في المرأة يتوفى عنها زوجها فتضع بعد وفاته (بيسير)
اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کوجنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17377 ترقیم الشثری: -- 17975
١٧٩٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن (يحيى) (١) بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (٢) عن ابي سلمة قال: كنت انا وابن عباس وابو هريرة فتذاكرنا: الرجل يموت عن المراة فتضع بعد وفاته (بيسير) (٣) فقلت: إذا وضعت فقد حلت، (وقال) (٤) ابن عباس: اجلها آخر الاجلين (فتراجعا) (٥) بذلك، فقال ابو هريرة: انا مع ابن اخي (يعني) (٦) ابا سلمة فبعثوا كريبا مولى ابن عباس إلى ام سلمة فقالت: إن سبيعة الاسلمية وضعت بعد وفاة زوجها باربعين ليلة وإن رجلا من بني عبد الدار يكنى ابا السنابل خطبها واخبرها انها قد حلت، فارادت ان تتزوج غيره، فقال لها ابو السنابل: (إنك) (٧) لم (تحلين) (٨) فذكرت ذلك سبيعة لرسول الله ﷺ فامرها ان تتزوج (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [ف].
(٢) في [أ، ب]: (سيار).
(٣) في [ط]: (يسير)، وفي [س]: (ليسير).
(٤) في [س]: (فقال).
(٥) في [س]: (فتراجع).
(٦) في [أ، ب]: سقط (يعني).
(٧) في [أ، ب]: (إذًا)
(٨) كذا في النسخ.
(٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٠٩)، ومسلم (١٤٨٥).

حدثنا يزيد بن هارون ، عن يحيى بن سعيد ، عن سليمان بن يسار ، عن ابي سلمة ، قال: كنت انا، وابن عباس، وابو هريرة فتذاكرنا: الرجل يموت عن المراة فتضع بعد وفاته بيسير، فقلت: إذا وضعت ؛ فقد حلت، وقال ابن عباس:" اجلها آخر الاجلين" فتراجعا بذلك فقال ابو هريرة انا مع ابن اخي، يعني ابا سلمة، فبعثوا كريبا مولى ابن عباس إلى ام سلمة ، فقالت: إن سبيعة الاسلمية وضعت بعد وفاة زوجها باربعين ليلة، وإن رجلا من بني عبد الدار يكنى ابا السنابل خطبها واخبرها انها قد حلت، فارادت ان تتزوج غيره، فقال لها ابو السنابل: إنك لم تحلين، فذكرت ذلك سبيعة لرسول الله صلى الله عليه وسلم" فامرها ان تتزوج"
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ما ایک مجلس میں تھے۔ ہمارے درمیان مذاکرہ ہوا کہ اگر ایک عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت خاوند کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد بچے کو جنم دے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا؟ میں نے کہا کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں سے جو زیادہ ہو وہ اس کی عدت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو اپنے بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بنو عبد الدار کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو سنابل تھی انہوں نے سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ سبیعہ نے کسی اور سے نکاح کا ارادہ کیا تو ابوسنابل نے کہا کہ تمہاری عدت مکمل نہیں ہوئی۔ سبیعہ نے اس بات کا حضور 5 سے تذکرہ کیا تو آپ نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17975]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17975، ترقيم محمد عوامة 17377)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 17975 in Urdu