🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
179. ما قالوا في المرأة أو الرجل يحل لرجل جاريته، يطأها؟
کیا کوئی مرد یاعورت کسی دوسرے مرد کو اپنی باندی سے جما ع کی اجازت دے سکتے ہیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17581 ترقیم الشثری: -- 18186
١٨١٨٦ - حدثنا ابو بكر (قال) (١) : نا عباد بن العوام عن صخر بن جويرية عن نافع (ان) (٢) ابن عمر سئل عن امراة احلت جاريتها لزوجها فقال ابن عمر: لا ادري، لعل هذا لو كان على عهد عمر لرجمه، إنها لا تحل لك جارية إلا جارية إن ⦗٥١٦⦘ شئت بعتها، وإن شئت اعتقتها، وإن شئت وهبتها، وإن شئت انكحتها من شئت (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: سقط (قال).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عباد بن العوام، عن صخر بن جويرية، عن نافع، ان ابن عمر، سئل عن " امراة احلت جاريتها لزوجها، فقال ابن عمر: لا ادري , لعل هذا لو كان على عهد عمر لرجمه! ؛ إنها لا تحل لك جارية إلا جارية إن شئت بعتها وإن شئت اعتقتها وإن شئت وهبتها وإن شئت انكحتها من شئت"
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا کوئی عورت اپنی باندی کو اپنے خاوند کے لئے حلال قرار دے سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوتاتو وہ اسے سنگسار کرنے کا حکم دیتے، تیرے لئے صرف وہی باندی حلال ہے جسے تو اپنے مرضی سے بیچ سکے اور اپنی مرضی سے آزاد کرسکے، اگر چاہے تو اسے ہبہ کرسکے اور اگر چاہے تو اس سے نکاح کرسکے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18186، ترقيم محمد عوامة 17581)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18186 in Urdu