🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
189. من رخص في لبن الفحل ولم يره شيئا
جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17647 ترقیم الشثری: -- 18261
١٨٢٦١ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) ابن إدريس عن محمد بن (عمرو) (٢) عن ابي عبيدة بن عبد الله بن زمعة عن امه زينب ابنة ابي سلمة قالت: كانت اسماء ارضعتني، وكان (٣) الزبير يدخل علي وانا امتشط وياخذ القرن من قروني ويقول: اقبلي علي (فحدثني -بربي-) (٤) (انه) (٥) ⦗٥٣٣⦘ (ابي) (٦) و (ان ما) (٧) ولد إخوتي، فلما كان (يوم) (٨) الحرة ارسل عبد الله بن الزبير يخطب ابنتي على حمزة (بن) (٩) الزبير، وحمزة ومصعب للكلبية ارسلت إليه: هل تصلح له؟ فارسل إلي: إنما تريدين منعي بنتك وانا اخوك وما ولدت اسماء (فهم) (١٠) إخوتك، (واما) (١١) ولد الزبير لغير اسماء فليس لك بإخوة فارسلي فسلي، فارسلت فسالت واصحاب النبي ﷺ متوافرون وامهات المؤمنين فقالوا: إن الرضاعة من قبل الرجال لا تحرم شيئا (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (حدثنا).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: زيادة (ابن).
(٤) في [أ، ب، ك]: (علي فحدثيني نرى)، وفي [س]: (على محرم نرى)، وفي [هـ]: (محمد بحديثي ترى).
(٥) في [س]: (ابنه).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [هـ، س، ط]: (أنما).
(٨) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٩) في [هـ]: (و).
(١٠) في [س]: (هم).
(١١) في [س، هـ]: (وما).
(١٢) حسن؛ أبو عبيدة بن زمعة صدوق.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن محمد بن عمرو، عن ابي عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن امه زينب ابنة ابي سلمة، قالت: كانت اسماء ارضعتني، وكان الزبير يدخل علي وانا امتشط وياخذ القرن من قروني ويقول: اقبلي علي، فحدثني بربي، انه ابي وإنما ولد إخوتي، فلما كان الحرة ارسل عبد الله بن الزبير يخطب ابنتي على حمزة بن الزبير وحمزة ومصعب للكلبية فارسلت إليه: هل تصلح له؟ فارسل إلي: إنما تريدين منعي بنتك، وانا اخوك، وما ولدت اسماء فهم إخوتك وما ولد الزبير لغير اسماء فليس لك بإخوة، فارسلي فسلي، فارسلت فسالت واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم متوافرون وامهات المؤمنين ، فقالوا:" إن الرضاعة من قبل الرجال لا تحرم شيئا"
حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا۔ چناچہ (ان کے خاوند) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کررہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے۔ یومِ حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حمزہ بن زبیر رحمہ اللہ کے لئے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ حمزہ اور مصعب (حضرت زبیر کے دو بیٹے، حضرت اسماء کے بیٹے نہ تھے بلکہ) بنو کلب کی عورت سے تھے۔ میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ان سے ہوسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کررہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو؟ جو بچے حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م اور امہات المومنین g بقیدِ حیات تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18261]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18261، ترقيم محمد عوامة 17647)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18261 in Urdu