🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. الرجل يرمي الصيد ويغيب عنه ثم يجد سهمه فيه
اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20033 ترقیم الشثری: -- 20846
٢٠٨٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن موسى بن ابي عائشة عن ابي (رزين) (١) قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ بارنب فقال: إني رميت ارنبا فاعجزني طلبها حتى ادركني الليل، فلم اقدر عليها حتى اصبحت، فوجدتها وفيها ⦗١٥٩⦘ سهمي فقال:"اصميت او انميت؟" (٢) قال: لا بل انميت قال:"إن الليل خلق من خلق الله عظيم، لا يقدر (خلقه) (٣) إلا الذي خلقه، لعله (اعان) (٤) على قتلها شيء انبذها (عنك) (٥) " (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (زرين).
(٢) أصميت: أي قتلت صيدك مباشرة بآلة الصيد وأنت ترى، وأنميت: أصبت الصيد ثم مات بعد ذلك، والصائد لا يراه حال موته.
(٣) في [جـ]: (قدره).
(٤) في [أ، س، ط]: (أغار).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، ز، ط، ك].
(٦) مرسل؛ أبو رزين تابعي، وليس بأبي زر بن العقيلي الصحابي، وإنما هو مولى أبي وائل، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٨٣)، والبيهقي (٩/ ٢٤١)، والطبراني [١٩/ (٤٧٨)].

حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور 5 کے پاس ایک خرگوش لایا اس نے کہا کہ میں نے ایک خرگوش کو تیر مارا، میں اسے تلاش نہ کرسکا یہاں تک کہ رات ہوگئی، صبح وہ خرگوش مجھے مل گیا اور اس میں میرا تیر تھا، اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حضور 5 نے فرمایا کہ تم نے اسے اسی وقت مار دیا تھا یا وہ بعد میں کسی اور عارض سے مرا تھا؟ اس نے کہا، نہیں، وہ بعد میں مرا تھا، حضور 5 نے فرمایا کہ رات اللہ کی ایک عظیم مخلوق ہے، اس کی حقیقت سوائے اس کے خالق کے کوئی نہیں جان سکتا، شاید اس خرگوش کو کسی اور چیز نے مارا ہو اس لیے اسے پھینک دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20846، ترقيم محمد عوامة 20033)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20846 in Urdu