مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما قالوا في قتل الكلاب؟
کتوں کو مارنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 20284 ترقیم الشثری: -- 21102
٢١١٠٢ - حدثنا شبابة عن ابن ابي ذئب عن الحارث عن غريب عن اسامة قال: دخلت على رسول الله ﷺ (وعليه) (١) (الكآبة) (٢) فقلنا: ما لك يا رسول الله؟ قال:"إن جبريل ﵇ وعدني ان ياتيني (٣) فلم ياتني منذ ثلاث" قال:" (فاجاز) (٤) كلب" قال اسامة: فوضعت يدي على راسي، وصحت، فجعل النبي ﷺ يقول:"ما لك يا اسامة؟" فقلت: (اجاز) (٥) كلب فامر النبي ﷺ (بقتله) (٦) فقتل (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (المكابة).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك، هـ]: زيادة (فلم يأتيني).
(٤) في [س، هـ]: (فأجار).
(٥) في [ز، س، ط]: (جار)، وفي [أ، ب]: (جاءت)، وفي [هـ]: (أجار).
(٦) في [س]: (بقتل).
(٧) حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٢١٧٧٢)، والبزار (٢٥٩٠)، والطيالسي (٦٣٧)، والطحاوي (٤/ ٢٨٣)، والضياء (٤/ ١٣٤٧)، والطبراني (٣٨٧).
حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور 5 کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! خیریت تو ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے۔ اتنے میں ایک کتا وہاں سے گذرا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور میں چلایا۔ حضور 5 نے پوچھا اے اسامہ کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ ایک کتا گذرا ہے۔ حضور 5 نے اسے مارنے کا حکم دیا اور اسے مار دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 21102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21102، ترقيم محمد عوامة 20284)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 21102 in Urdu