🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. في الكي من رخص فيه
داغنے کے بارے میں جن لوگوں نے اجازت دی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24079 ترقیم الشثری: -- 25160
٢٥١٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن عبد الرحمن ابن (سعد) (١) بن (زرارة) (٢) (قال: سمعت عمي يحيى -وما ادركت رجلا منا به شبيها- يحدث) (٣) (ان سعد بن زرارة) (٤) اخذه وجع في حلقه يقال: له (الذبح) (٥) فقال: رسول الله ﷺ:" (الابلغن) (٦) او (لابلين) (٧) في ابي (امامة) (٨) (عذرا) (٩) "، فكواه (بيده) (١٠) فمات، فقال: رسول الله ﷺ:"ميتة (سوء) (١١) لليهود يقولون: ⦗١٧٨⦘ (فهلا) (١٢) دفع عن صاحبه؟ وما املك له ولا (لنفسي) (١٣) شيئا" (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أسعد).
(٢) في [أ]: (زرادة).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ح، ز، ط]، وفي [هـ]: (أن أسعد به زرارة).
(٥) في [ط]: (الرمح).
(٦) في [أ، ط]: (لا بلعز).
(٧) في [هـ]: (لأيلين).
(٨) في [ط]: (أسامة).
(٩) في [جـ]: (قدرا).
(١٠) في [أ، ح]: (بيد).
(١١) في [ط]: (بسوء).
(١٢) في [جـ، ز]: (فهلا).
(١٣) في [ط]: (لنفس).
(١٤) صحيح؛ والأظهر أن يحيى صحابي، والحديث أخرجه أحمد في العلل ١/ ٢٩٩، وابن ماجه (٣٤٩٢)، والطبراني ٢٢/ (٧٣٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٩٧)، والمزي (٣١/ ٢٠٢)، وابن الأثير في أسد الغابة (٥/ ٤٨٤)، وأخرجه ابن سعد ٣/ ٦١٠ مرسلًا، ومالك ٢/ ٩٤٤ بلاغًا، وورد من طريق آخر عند أحمد (١٦٦١٨ و ١٧٢٣٨).

حضرت محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے چچا حضرت یحییٰ … اپنے میں سے کسی آدمی کو میں نے ان کے مشابہ نہیں پایا …کو بیان کرتے سُنا کہ حضرت سعد بن زرارہ کو حلق میں ایک بیماری پیدا ہوگئی جس کو ذبح (سوزش) کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ضرور بالضرور ابو امامہ میں عذر کو پہنچاؤں گا یا فرمایا: میں ضرور بالضرور آزماؤں گا، چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا اور وہ انتقال کر گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہود کے لئے یہ (واقعہ) بری موت ہے، وہ کہیں گے، محمد نے اپنے ساتھی سے تکلیف کیوں نہ دور کی، حالانکہ میں تو اپنی جان کا مالک نہیں ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25160]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25160، ترقيم محمد عوامة 24079)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25160 in Urdu