🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. من كره الجر الأخضر ونهى عنه
جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24291 ترقیم الشثری: -- 25378
٢٥٣٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثني يعلى بن حكيم عن (صهيرة) (١) [بنت جيفر سمعه منها قالت: حججنا ثم انصرفنا إلى المدينة (فدخلنا) (٢) على صفية] (٣) ننت حيي فوافقنا عندها نسوة من اهل الكوفة، فقلن لنا: إن شئتن سالنا وسمعتن، وإن شئتن سالتن وسمعنا، (فقلن) (٤) : سلن، فسالن عن اشياء من امر المراة وزوجها، ومن امر المحيض، وسالن عن نبيذ الجر، [فقالت: (اكثرتن) (٥) يا اهل العراق علينا في نبيذ الجر] (٦) ، حرم رسول الله ﷺ نبيذ الجر، (ما) (٧) على إحداكن ان تطبخ ثمرها (٨) تدلكه ثم تصفيه فتجعله في سقائها (وتوكئ) (٩) عليه، فإذا طاب شربت (وسقت زوجها) (١٠) (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ضميرة).
(٢) في [جـ]: (قد دخلنا).
(٣) سقط في: [أ، ح، ط].
(٤) في [ط، هـ]: (فقلنا).
(٥) في [ز]: (أكثرتين).
(٦) (ذكر) في حاشية: [ح].
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) سقط (ثم) من: [هـ].
(٩) في [أ، ح، ط]: (تولي).
(١٠) ورد في حاشية [ز].
(١١) مجهول؛ لجهالة صهيرة، أخرجه أحمد (٢٦٨٦٥)، وأبو يعلى (٧١١٧)، والطبراني (٢٤/ [١٩٩]).

حضرت صُہَیرہ بنت جیفر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم نے (ایک مرتبہ) حج ادا کیا پھر ہم مدینہ کی طرف واپس آئے اور ہم حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پر ہمیں اتفاق سے اہل کوفہ کی کچھ خواتین مل گئیں۔ انہوں نے ہم سے کہا۔ اگر تم چاہتی ہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم (چپ کر کے) سنو اور اگر تم چاہتی ہو تو تم سوال کرلو ہم سماعت کرلیں گی۔ ہم نے کہا: تم پوچھو۔ پس انہوں نے میاں، بیوی کے بہت سے امور کے بارے میں اور حائضہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضرت صفیہ نے فرمایا: اے اہل عراق! تم نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں ہم سے بکثرت سوالات کیئے ہیں جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ تم میں سے کسی پر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی کھجور کو پکاتی ہے۔ پھر اس کو ملتی ہے، صاف کرتی ہے پھر اس کو مشکیزہ میں ڈالتی ہے اور اس پر کوئی ڈوری وغیرہ باندھ کر اس کا منہ بند کردیتی ہے پس جب وہ مشروب لذت آمیز ہوجاتا ہے تو خود بھی پیتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی پلاتی ہے؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25378]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25378، ترقيم محمد عوامة 24291)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25378 in Urdu