مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. من كان يطبق يديه بين فخذيه
جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
ترقیم عوامۃ: 2554 ترقیم الشثری: -- 2561
٢٥٦١ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن الاعمش عن إبراهيم قال: دخل الاسود وعلقمة على عبد الله فقال عبد الله: صلى هؤلاء بعد؟ قالا: لا، قال: فقوموا فصلوا، ولم يامر باذان ولا إقامة، وتقدم (هو) (١) فصلى بنا، فذهبنا نتاخر فاخذ بايدينا فاقامنا معه، فلما ركعنا وضع الاسود يديه على ركبتيه، فنظر عبد الله فابصره فضرب يده، فنظر الاسود فإذا يدا عبد الله بين ركبتيه وقد خالف (بين) (٢) اصابعه، فلما قضى الصلاة قال: إذا كنتم ثلاثة فليؤمكم احدكم، وإذا ركعت فافرش ذراعيك فخذيك، فكاني انظر إلى اختلاف اصابع النبي ﷺ وهو راكع، ثم قال: (إنه) (٣) سيكون امراء يميتون الصلاة (شرق الموتى) (٤) ، وإنها صلاة من هو شر من حمار، وصلاة من لا يجد بدا، فمن ادرك ذلك منكم فليصل الصلاة لميقاتها، ولتكن صلاتكم معهم سبحة، فقلت لإبراهيم: كان علقمة والاسود ⦗٤٢⦘ يفعلان ذلك؟ قال: نعم، قلت لإبراهيم: تفعل انت ذلك؟ قال: نعم، قلت: إن الناس يضعون ايديهم على ركبهم (٥) . - فقال إبراهيم: سمعت ابا معمر يقول: رايت عمر يضع يديه على ركبتيه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من [جـ، ك].
(٢) زيادة في [أ، ب، جـ].
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [ب، هـ، د]: (شر من الموتى).
(٥) صحيح؛ الظاهر أن إبراهيم رواه عن الأسود وعلقمة، أخرجه مسلم (٥٣٤)، وأحمد (٣٥٨٨).
(٦) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن فضيل، عن الاعمش، عن إبراهيم، قال: دخل الاسود وعلقمة على عبد الله، فقال عبد الله :" صلى هؤلاء بعد؟ , قالا: لا , قال: فقوموا فصلوا , ولم يامر باذان ولا إقامة وتقدم فصلى بنا فذهبنا نتاخر فاخذ بايدينا فاقامنا معه فلما ركعنا وضع الاسود يديه على ركبتيه فنظر عبد الله فابصره فضرب يده فنظر الاسود فإذا يدا عبد الله بين ركبتيه وقد خالف بين اصابعه فلما قضى الصلاة قال: إذا كنتم ثلاثة فليؤمكم احدكم، وإذا ركعت فافرش ذراعيك فخذيك فكاني انظر إلى اختلاف اصابع النبي صلى الله عليه وسلم وهو راكع ثم قال: إنه سيكون امراء يميتون الصلاة، شر من الموتى، وإنها صلاة من هو شر من حمار وصلاة من لا يجد بدا فمن ادرك ذلك منكم فليصل الصلاة لميقاتها ولتكن صلاتكم معهم سبحة"، فقلت لإبراهيم: كان علقمة والاسود يفعلان ذلك، قال: نعم , قلت لإبراهيم: تفعل انت ذلك، قال: نعم، قلت: إن الناس يضعون ايديهم على ركبهم، فقال إبراهيم: سمعت ابا معمر يقول: رايت عمر يضع يديه على ركبتيه"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ان دونوں نے کہا نہیں۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو، انہوں نے نہ اذان کا حکم دیا اور نہ اقامت کا۔ پھر وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم پیچھے ہٹنے لگے تو انہوں نے ہمیں پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کرلیا۔ جب ہم نے رکوع کیا تو اسود نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دیئے۔ جب حضرت عبد اللہ نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں پر مارا۔ اسودنے دیکھا کہ حضرت عبد اللہ کے دونوں ہاتھ ان کے گھٹنوں کے درمیان تھے اور انہوں نے اپنی انگلیوں کو کھول رکھا تھا۔ جب حضرت عبد اللہ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا ”جب تم تین ہو تو تم میں سے ایک آدمی نماز پڑھائے، جب تم رکوع کرو تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لو، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھول کر رکھا کرتے تھے اور یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نماز کو مردہ کردیں گے۔ وہ ایسی نماز ہوگی جو گدھے سے زیادہ بری ہوگی اور اس نماز کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جب تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پالے تو اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرلے۔ اور ان کے ساتھ محض نفل کے طورپر شریک ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ کیا اس کے بعد پھر حضرت اسود اور حضرت علقمہ یونہی کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو معمر کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2561، ترقيم محمد عوامة 2554)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 2561 in Urdu