🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
198. المثلة في القتل
قتل میں مثلہ کرنے کابیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28512 ترقیم الشثری: -- 29775
٢٩٧٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن (بكير) (١) بن عبد الله بن الاشج عن (عبيد بن تعلى) (٢) قال: غزونا ارض الروم ومعنا ابو ايوب الانصاري صاحب رسول الله ﷺ وعلى الناس عبد الرحمن بن خالد بن الوليد في زمان معاوية، فبينا نحن عنده إذ اتاه رجل فقال: اتي الامير، (آنفا) (٣) باعلاج اربعة فامر بهم (فصبروا) (٤) يرمون بالنبل حتى قتلوا، قال: فقام ابو ايوب فزعا حتى ⦗٢٨٦⦘ اتى عبد الرحمن فقال: (اصبرتهم؟) (٥) لقد سمعت رسول الله ﷺ ينهى عن صبر البهيمة، وما احب (اني صبرت) (٦) دجاجة وان لي كذا وكذا، (قال) (٧) : فاعظم ذلك، فدعا عبد الرحمن بغلمان له (اربعة) (٨) فاعتقهم مكان الذي صنع (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (بكر).
(٢) في [هـ]: (يعلى بن عبيد)، وفي [أ، ط، ك]: (عبيد بن يعلى).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ك]: (فصيروا).
(٥) في [ط، هـ]: (أصبرتم).
(٦) في [ط، هـ]: (إلى صبرة).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، والأكثر على أن بكيرًا يرويه عن أبيه كما في تهذيب الكمال ١٩/ ١٩٧، وأخرجه أحمد (٢٣٥٨٩)، وأبو داود (٢٦٨٧)، وابن حبان (٥٦١٠)، والدارمي (١٩٧٤)، والطحاوي ٣/ ١٨٢، والشاشي (١٦٠)، وسعيد بن منصور (٢٦٦٧)، والبيهقي ٩/ ٧١، والحربي ١٩٠/ ١٩، والطبراني (٤٠٠١).

حضرت عبید بن تعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ روم کے علاقہ میں جہاد کرنے کے لیے گئے اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اور حضرت معاویہ کے زمانے میں لوگوں پر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید امیر تھے۔ ہم آپ کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابھی امیر کے پاس چار گاؤ خر لائے گئے۔ تو اس نے حکم دیا اور ان کو بغیر چارہ کھلائے باندھ دیا گیا۔ ان کو تیر مارے گئے یہاں تک کہ ان کو مار دیا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو ایوب انصاری گھبرا کر اٹھے یہاں تک کہ آپ حضرت عبدالرحمن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم نے ان جانوروں کو چارہ کھلائے بغیر ہی باندھے رکھا؟ البتہ تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو بھوکا پیاسا قید میں رکھنے سے منع فرمایا۔ اور میں پسند نہیں کرتا کہ میں ایک مرغی کو بھوکا پیاسا قید میں رکھوں اور مجھے اس کے بدلے میں اتنا اور اتنا مال ملے پس یہ تو بہت بڑامعاملہ ہے اس پر حضرت عبدالرحمن نے اپنے چار غلاموں کو بلایا اور اپنے اس فعل کے بدلے ان چاروں کو آزاد کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29775]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29775، ترقيم محمد عوامة 28512)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 29775 in Urdu