مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
67. في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها)
آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
ترقیم عوامۃ: 2975 ترقیم الشثری: -- 2987
٢٩٨٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن عجلان عن علي بن يحيى بن خلاد عن ابيه عن عمه وكان بدريا قال: كنا جلوسا مع رسول الله ﷺ فدخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا، ورسول الله ﷺ يرمقه، ونحن لا نشعر، قال: فصلى، ثم جاء فسلم على النبي ﷺ (فرد عليه) (١) ، فقال:" (اعد) (٢) فإنك لم تصل"، (قال) (٣) : ففعل ذلك ثلاثا كل ذلك يقول له:" (اعد) (٤) فإنك لم تصل"، فلماكان في الرابعة قال: يا رسول الله علمني فقد والله اجتهدت. فقال:"إذا قمت الى الصلاة فاستقبل القبلة، ثم كبر، ثم اقرا، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تطمئن قائما، ثم اسجد حتى تطمئن (ساجدا) (٥) ، ثم اجلس حتى تطمئن جالسا، (ثم قم) (٦) ، فإذا فعلت ذلك فقد تمت ⦗١٣٢⦘ صلاتك وما نقصت من ذلك نقصت من صلاتك" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من [د، ك]: (فرد عليه).
(٢) في [أ]: (أغد).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [أ]: (أعده).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) زيادة من [أ، جـ، د، ك]: (ثم قم).
(٧) حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه أحمد (١٨٩٩٧)، والنسائي ٢/ ١٩٣، وابن حبان (١٧٨٧)، والشافعي في الأم ١/ ٨٨، والبخاري في الفراءة خلف الإمام (١١٢)، وفي التاريخ ٣/ ٣٢١، والطبراني (٤٥٢٤)، وابن أبي عاصم في الأحاد (١٩٧٦)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٤٥)، كما أخرجه أبو داود (٨٦١) والترمذي (٣٠٢)، وابن خزيمة (٥٤٥)، وابن ماجه (٤٦٠)، والحاكم ١/ ٢٤٣، وعبد الرزاق (٣٧٣٩)، والبيهقي ٢/ ٣٧٣، والبغوي (٥٥٣)، وابن الجارود (١٩٤)، والدارمي (١٣٣٥).
حدثنا ابو خالد الاحمر ، عن محمد بن عجلان ، عن علي بن يحيى بن خلاد ، عن ابيه ، عن عمه وكان بدريا، قال:" كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ونحن لا نشعر، قال: فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فرد عليه فقال:" اعد فإنك لم تصل"، قال: ففعل ذلك ثلاثا كل ذلك يقول له:" اعد فإنك لم تصل" , فلما كان في الرابعة، قال: يا رسول الله , علمني فقد والله اجتهدت، فقال: " إذا قمت إلى الصلاة فاستقبل القبلة ثم كبر ثم اقرا ثم اركع حتى تطمئن راكعا , ثم ارفع حتى تطمئن قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا , ثم اجلس حتى تطمئن جالسا ثم قم فإذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك وما نقصت من ذلك نقصت من صلاتك"
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے انتہائی پھرتی سے نماز پڑھی اور رکوع اور سجود بھی ٹھیک طرح نہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھور کر دیکھ رہے تھے جبکہ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوا۔ جب وہ نماز پڑھ کر حاضر خدمت ہوا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے ایسا تین مرتبہ کیا لیکن ہر مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے یہی فرماتے کہ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، جب وہ چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے نماز سکھا دیجئے، خدا کی قسم! میں نے تو پوری کوشش کرکے دیکھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو۔ پھر تکبیر کہو، پھر قراءت کرو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر رکوع سے اٹھو تو اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو اور اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہوجاؤ۔ اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی اور اگر اس میں سے کسی عمل میں کمی کی تو سمجھو وہ کمی تمہاری نماز میں پائی جارہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2987، ترقيم محمد عوامة 2975)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 2987 in Urdu