مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. من قال: أنا مؤمن
جو شخص یوں کہے: میں مومن ہوں
ترقیم عوامۃ: 30971 ترقیم الشثری: -- 32348
٣٢٣٤٨ - حدثنا ابو معاوية عن داود بن ابي هند عن شهر بن حوشب عن الحارث بن (عميرة) (١) (الزبيدي) (٢) قال: وقع الطاعون بالشام فقام معاذ بحمص ونخطبهم فقال: إن هذا الطاعون رحمة ربكم، ودعوة نبيكم ﷺ، وموت الصالحين ⦗٢٠⦘ قبلكم، اللهم اقسم لآل معاذ نصيبهم الاوفى منه، (قال) (٣) : فلما نزل عن المنبر اتاه آت، فقال: إن عبد الرحمن بن معاذ قد اصيب فقال: ﴿إنا لله وإنا إليه راجعون﴾ [البقرة: ١٥٦] ، قال: ثم انطلق نحوه، فلما رآه عبد الرحمن مقبلا (قال) (٤) : (٥) إنه الحق من ربك فلا تكونن من الممترين، قال: فقال: يا بني، ستجدني إن شاء الله من الصابرين، قال: فمات آل معاذ إنسانا إنسانا حتى كان معاذ آخرهم، (قال) (٦) : فاصيب فاتاه الحارث بن (عميرة) (٧) الزبيدي (٨) ، قال: (فاغشي) (٩) على معاذ غشية، (قال) (١٠) : (فافاق) (١١) معاذ والحارث يبكي، (قال) (١٢) : فقال معاذ: ما يبكيك؟ قال: (١٣) (ابكي) (١٤) على العلم الذي يدفن معك، (قال) (١٥) : فقال: (فإن) (١٦) كنت طالبا للعلم لا محالة فاطلبه من عبد الله بن مسعود، ومن عويمر ابي ⦗٢١⦘ الدرداء ومن سلمان الفارسي، (قال) (١٧) : وإياك وزلة العالم، (قال) (١٨) : (قلت) (١٩) : وكيف -لي اصلحك الله- ان اعرفها؟ قال: (إن) (٢٠) للحق نورا يعرف به، قال: فمات معاذ (رحمة الله عليه) (٢١) وخرج الحارث (٢٢) يريد عبد الله بن مسعود بالكوفة، (فقال) (٢٣) : فانتهى إلى بابه فإذا على الباب نفر من اصحاب عبد الله يتحدثون، قال: فجرى بينهم الحديث حتى قالوا: يا شامي، امؤمن انت؟ قال: نعم، فقالوا: من اهل الجنة؟ قال: (فقال) (٢٤) : إن لي ذنوبا (لا) (٢٥) ادري ما (يصنع) (٢٦) الله فيها، فلو (اني) (٢٧) اعلم انها غفرت لي لانباتكم اني من اهل الجنة، قال: فبينما هم كذلك إذ خرج عليهم عبد الله فقالوا له: الا تعجب من اخينا هذا الشامي يزعم انه مؤمن و (لا) (٢٨) يزعم انه من اهل الجنة، (قال) (٢٩) : فقال عبد الله: لو قلت إحداهما لاتبعتها الاخرى، (قال) (٣٠) : فقال الحارث: إنا لله وإنا إليه راجعون صلى الله على ⦗٢٢⦘ معاذ، قال: ويحك ومن معاذ؟ قال: معاذ بن جبل، قال: وما (ذاك؟) (٣١) قال: قال: (٣٢) إياك وزلة العالم فاحلف بالله إنها منك لزلة يا ابن مسعود، وما الإيمان إلا انا نؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والجنة والنار والبعث والميزان، و (إن) (٣٣) لنا ذنوبا (لا) (٣٤) ندري ما يصنع الله فيها، فلو (انا) (٣٥) نعلم انها غفرت لنا لقلنا: إنا من اهل الجنة، فقال عبد الله. (صدقت والله، إن كانت مني لزلة) (٣٦) (٣٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمير).
(٢) في [و]: (الزبيد).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [جـ]: (فقال).
(٥) في [و]: زيادة (ما آبه).
(٦) سقط من: [و].
(٧) في [أ، هـ]: (عمير).
(٨) زيادة في [و]: (يعوده)
(٩) في [و]: (وغشي).
(١٠) سقط من: [و].
(١١) في [ط]: (فأقاف).
(١٢) سقط من: [و].
(١٣) في [جـ، ك]: زائدة (فقال).
(١٤) في [ب]: (نبكي).
(١٥) سقط من: [و].
(١٦) في [و]: (إن).
(١٧) سقط من: [و].
(١٨) سقط من: [و].
(١٩) في [أ، ب، ط]: (وقلت)، وفي [هـ]: (فقلت).
(٢٠) سقط من: [و].
(٢١) زيادة في: [و].
(٢٢) في [ب]: زيادة [و].
(٢٣) في [أ، ب، ك]: (قال).
(٢٤) سقط من: [و].
(٢٥) في [و]: (وما).
(٢٦) في [ط]: (يضع).
(٢٧) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢٨) سقط من: [هـ].
(٢٩) زيادة (قال) في: [ك].
(٣٠) سقط من: [و].
(٣١) زيادة في: [و].
(٣٢) زيادة (قال) في: [جـ].
(٣٣) زائدة في: [هـ]، وسقطة من: [و].
(٣٤) في [و]: (ما).
(٣٥) زيادة (أنا) في [و].
(٣٦) تكرر في [و].
(٣٧) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٠، والبزار (٢٦٧١)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٩٨١)، وأبو نعيم ١/ ٢٤٥، وابن عساكر ١١/ ٤٥٩، وقد أخرجه بنحوه أو بعضه أبو داود (٤٦١١)، والترمذي (٣٨٥٤)، والنسائي (٨٢٥٣)، وابن حبان (٧١٦٥)، وأحمد (٢٢١٥٧)، وعبد الرزاق (٢٠٧٥٠)، وإسحاق كما في المطالب (٢٨٩٨)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ١٨٦، والبيهقي ١٠/ ٢١٠، والمزي ٣٢/ ٢١٩.
حضرت حارث بن عمیرہ الزبیدی فرماتے ہیں کہ جب شام میں طاعون پھیلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حمص کے مقام پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: یہ طاعون تمہارے رب کی رحمت ہے، اور تمہارے نبی 5 کی دعا ہے۔ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ہے۔ اے اللہ! آلِ معاذ کو اس میں سے پورا پورا حصہ عطا فرفرما۔ راوی کہتے ہیں: جب آپ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے تو ایک آنے والے نے آ کر خبر دی: بیشک عبد الرحمن بن معاذ طاعون میں مبتلا ہوگئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اس کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف چلے: راوی کہتے ہیں جب عبد الرحمن نے آپ کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: بیشک یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے مت ہونا، راوی کہتے ہیں: پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ضرور پائیں گے آپ ان شاء اللہ صابروں میں سے۔ راوی فرماتے ہیں: پس آل معاذ ایک ایک فرد کر کے مرگئے یہاں تک کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہان میں سے آخر میں رہ گئے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر آپ رضی اللہ عنہ بھی طاعون میں مبتلا ہوگئے۔ تو حارث بن عمیر الزبیدی آپ کے پاس آئے۔ راوی فرماتے ہیں: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو حارث رو رہے تھے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟ حارث نے کہا: میں اس علم کے ضائع ہونے پر رو رہا ہوں جو آپ کے ساتھ دفن ہوجائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو علم کا طالب ہے تو کوئی مشکل نہیں پس تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کو طلب کر، اور عویمر ابو الدرداء سے، اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے، اور فرمایا: تم عالم کی غلطیوں سے بچو۔ حارث کہتے ہیں میں نے پوچھا: میں کیسے اس کی غلطی کو پہچانوں؟ (اللہ آپ کو تندرست فرمائے) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا حق کے لیے نور ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ پہچان لیا جاتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی، اور حارث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی غرض سے کوفہ کی طرف نکلے۔ جب ان کے دروازے پر پہنچے۔ تو دیکھا وہاں حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب کا گروہ دروازے پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان بات چیت جاری تھی یہاں تک کہ وہ کہنے لگے، اے شامی بھائی: کیا تم مومن ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے کہا جی ہاں! پھر انہوں نے پوچھا: جنتیوں میں سے ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے کہا: یقینا میرے سے کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں میں نہیں جانتا کہ اللہ نے ان گناہوں کا کیا معاملہ کیا، پس اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میرے ان گناہوں کو معاف کردیا گیا ہے، تو میں تمہیں ضرور بتلاتا کہ بیشک میں جنتی ہوں راوی فرماتے ہیں: ہم اسی درمیان میں تھے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، تو ان کے اصحاب نے ان سے کہا: کیا آپ تعجب نہیں کرتے ہمارے اس شامی بھائی پر جو مومن ہونے کا گمان تو کرتا ہے اور جنتی ہونے کا گمان نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ان دونوں میں سے ایک کہوں گا تو ساتھ ہی دوسری بات بھی کہوں گا، تو حارث نے کہا: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم نے اس کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے! اللہ معاذ رضی اللہ عنہ پر رحمت فرمائے!۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہلاکت ہو، کون معاذ؟ انہوں نے کہا: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ حارث نے کہا: تم عالم کی غلطیوں سے بچے۔ پس میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اے ابن مسعود رضی اللہ عنہاپ غلطی پر ہیں۔ نہیں ہے ایمان مگر یہ کہ ہم اللہ پر ایمان لائیں، اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، اور آخرت کے دن پر، اور جنت اور جہنم پر، اور مرنے کے بعد اٹھنے پر، اور ترازو پر، اور ہمارے کچھ گناہ ہوتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا معاملہ فرمایا پس اگر ہم جان لیں کہ ہمارے ان گناہوں کو معاف کردیا تو ہم ضرور کہیں گے کہ ہم جنتی ہیں۔ تو حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم میں غلطی پر تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32348]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32348، ترقيم محمد عوامة 30971)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32348 in Urdu