مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. باب
ترقیم عوامۃ: 31062 ترقیم الشثری: -- 32443
٣٢٤٤٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون (قال) (٢) : اخبرنا ابو معشر عن محمد (ابن) (٣) صالح الانصاري ان رسول الله ﷺ لقي عوف بن مالك فقال: كيف اصبحت يا عوف بن مالك؟ قال: اصبحت مؤمنا حقا، (فقال) (٤) رسول الله ﷺ:"إن لكل قول حقيقة، فما حقيقة ذلك؟" (فقال) (٥) : يا رسول الله (الم اظلف) (٦) نفسي عن الدنيا، (اسهرت) (٧) ليلي واظمات هواجري وكاني انظر إلى عرش ربي، وكاني انظر إلى اهل الجنة يتزاورون فيها، وكاني انظر إلى اهل النار يتضاغون فيها، فقال رسول الله ﷺ:"عرفت وآمنت فالزم" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط، ك، هـ]: (يونس).
(٢) سقط من: [و].
(٣) سقط من: [و].
(٤) في [ط]: (قال).
(٥) في [و]: (قال).
(٦) أي: لم أمنعها وأكفها عما لا يجمل، وفي [و]: (أطلقت)، وفي [هـ]: (أطلب).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (سهرت).
(٨) مرسل ضعيف؛ أبو معشر ضعيف، ومحمد بن صالح تابعي.
حضرت محمد بن صالح الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو فرمایا: اے عوف بن مالک! تو نے کس حال میں صبح کی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا میں نے اپنے نفس کو دنیا سے نہیں روکا؟ میں نے راتوں میں خود کو جگایا: اور شدید گرمی کی دوپہر میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنت میں باتیں کر رہے ہیں، اور گویا کہ میں اہل جہنم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو نے پہچان لیا یا فرمایا تو ایمان لایا پس اس کو لازم پکڑے رکھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32443]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32443، ترقيم محمد عوامة 31062)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32443 in Urdu