مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. باب
ترقیم عوامۃ: 31068 ترقیم الشثری: -- 32449
٣٢٤٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار عن ابن بريدة (١) قال: وردنا بالمدينة فاتينا عبد الله بن عمر فقلنا: يا ابا عبد الرحمن إنا نمعن في ⦗٥٥⦘ الارض فنلقى قوما يزعمون ان لا قدر، فقال: من المسلمين ممن يصلي إلى القبلة (قلنا: نعم ممن يصلي إلى القبلة) (٢) ، قال: فغضب حتى وددت اني لم اكن سالته، ثم قال: إذا لقيت اولئك فاخبرهم ان عبد الله بن عمر منهم بريء وانهم (منه) (٣) برآء، ثم قال: إن شئت حدثتك عن رسول الله ﷺ، فقال: اجل، فقال: كنا عند رسول الله ﷺ (فاتاه) (٤) رجل جيد الثياب طيب الريح حسن الوجه فقال: يا رسول الله ما الإسلام؟ قال رسول الله ﷺ:"تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتغتسل من الجنابة"، قال: صدقت (٥) ، فما الإيمان؟ (قال) (٦) رسول الله ﷺ:"تؤمن بالله واليوم الآخر، والملائكة، والكتاب، والنبيين، وبالقدر كله خيره وشره وحلوه ومره"، قال: صدقت، ثم انصرف فقال رسول الله ﷺ:"علي بالرجل"، قال: فقمنا (باجمعنا) (٧) فلم نقدر عليه، فقال النبي ﷺ:"هذا جبريل اتاكم يعلمكم دينكم" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن ابن يعمر).
(٢) سقط ما بين القوسين من: [أ، جـ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ط]: سقط (منه).
(٤) في [و]: (فأتى).
(٥) في [جـ]: زيادة (قال)، وفي [و]: (ثم قال رسول اللَّه).
(٦) في [و]: (فقال).
(٧) في [و]: (طلبناه).
(٨) ضعيف؛ عطاء اختلط، ورواية ابن فضيل عنه بعد الاختلاط، وأخرجه مسلم (٨)، وأحمد (٣٧٥).
حضرت محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم مدینہ آئے تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن! ہم اپنے شہروں سے بہت دور تھے۔ تو ہماری چند ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا وہ لوگ مسلمانوں میں سے ہیں؟ اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پس آپ رضی اللہ عنہاتنے غضبناک ہوئے کہ میں نے چاہا کہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے سوال نہ کرتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم ان لوگوں سے ملو تو ان کو بتلا دو کہ یقینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے بری ہے، اور وہ لوگ مجھ سے بری ہیں، پھر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں؟ میں نے عرض کیا! جی ہاں! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ پس ایک آدمی آیا صاف ستھرے کپڑوں والا، اچھی خوشبو والا اور خوبصورت چہرے والا، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول 5! اسلام کی حقیقت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم نماز کی پابندی کرو، اور زکوٰۃ دو، اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اور جنابت سے پاکی کا غسل کرو۔ اس شخص نے کہا! آپ نے سچ فرمایا: ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو ایمان لائے اللہ پر، اور آخرت کے دن پر، اور فرشتوں پر، اور کتاب پر، اور نبیوں پر اور تقدیر کے اچھے، بُرے ہونے پر اور اس کی مٹھاس اور کھٹاس پر۔ اس شخص نے کہا: آپ نے سچ فرمایا: پھر وہ شخص واپس چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جوتی دو، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سب کھڑے ہوگئے۔ پس ہمیں اس پر قدرت نہ ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32449، ترقيم محمد عوامة 31068)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32449 in Urdu