🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
92. في جميع مواقيت الصلاة
تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 3240 ترقیم الشثری: -- 3254
٣٢٥٤ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) بن عثمان عن ابي بكر بن (ابي) (٢) موسى سمعه (منه) (٣) عن ابيه: ان سائلا اتى النبي ﷺ فساله (عن) (٤) مواقيت الصلاة فلم يرد (عليه) (٥) شيئا، قال: ثم امر بلالا (فاقام حين انشق الفجر فصلى، ثم امره) (٦) فاقام الصلاة والقائل يقول: قد زالت الشمس، او لم تزل، وهو كان اعلم منهم، ثم امره فاقام العصر والشمس مرتفعة، وامره (فاقام المغرب حين وقعت الشمس، (ثم) (٧) امره) (٨) فاقام العشاء (عند) سقوط (الشفق) (٩) ، قال: ثم صلى الفجر من الغد والقائل يقول: قد طلعت الشمس، او لم تطلع، وهو كان اعلم منهم، وصلى الظهر قريبا من وقت العصر بالامس، وصلى العصر والقائل يقول: قد احمرت الشمس، وصلى المغرب قبل ان يغيب الشفق، وصلى العشاء ثلث الليل الاول، ثم ⦗١٩٥⦘ قال:"اين السائل عن الوقت؟ ما بين هذين الوقتين: (وقت) " (١٠) (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ، د، ك]: زيادة.
(٤) في [أ]: (من).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [جـ، ك]: (وأمره).
(٨) سقط ما بين القوسين من: [أ].
(٩) في [هـ]: (الشمس).
(١٠) في [هـ]: (الوقت).
(١١) صحيح، أخرجه مسلم (٦١٤)، وأحمد (١٩٧٣٣).

حدثنا وكيع ، عن بدر بن عثمان ، عن ابي بكر بن ابي موسى سمعه منه , عن ابيه ، ان سائلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن مواقيت الصلاة فلم يرد عليه شيئا، قال: ثم امر بلالا فاقام حين انشق الفجر فصلى ثم امره فاقام الصلاة والقائل يقول: قد زالت الشمس او لم تزل وهو كان اعلم منهم ثم امره فاقام العصر والشمس مرتفعة وامره فاقام المغرب حين وقعت الشمس وامره فاقام العشاء عند سقوط الشفق قال: ثم صلى الفجر من الغد والقائل يقول: قد طلعت الشمس او لم تطلع وهو كان اعلم منهم وصلى الظهر قريبا من وقت العصر بالامس وصلى العصر والقائل يقول: قد احمرت الشمس وصلى المغرب قبل ان يغيب الشفق وصلى العشاء ثلث الليل الاول ثم قال:" اين السائل عن الوقت؟ ما بين هذين الوقتين وقت"
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے اسے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب فجر طلوع ہوگئی تھی۔ آپ نے اس وقت نما زپڑھائی۔ پھر انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج زائل ہوا ہی ہے یا ہونے والا ہے حالانکہ وہ کہنے والا سب سے زیادہ اوقات کو جانتا ہے۔ پھر عصر کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج ابھی بلند تھا۔ پھر مغرب کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہاجب کہ سورج غروب ہوگیا تھا۔ پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جبکہ شفق غائب ہوگیا۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا نہیں ہوا۔ جبکہ وہ قائل سب سے زیادہ مواقیت کو جانتا تھا۔ پھر آپ نے ظہر کی نماز گذشتہ عصر کی نماز کے وقت کے قریب پڑھائی۔ اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا ہے۔ پھر مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے پر پڑھائی۔ پھر فرمایا نمازوں کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جو وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے وہ نماز کا وقت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3254، ترقيم محمد عوامة 3240)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 3254 in Urdu