🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31323 ترقیم الشثری: -- 32711
٣٢٧١١ - (١) حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل اخبرنا قيس قال: قال عمر: (الا) (٢) تخبروني (عن منزليكم) (٣) هذين؟ ومع هذا إني (لاسالكما) (٤) وإني لاتبين في وجوهكما اي (المنزلين) (٥) خير، قال: فقال له جرير: انا اخبرك يا امير المؤمنين، اما (احد) (٦) (المنزلين) (٧) (فادنى) (٨) نخلة بالسواد إلى ارض العرب، واما المنزل الآخر فارض فارس (وعكها) (٩) وحرها و (بقها) (١٠) يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، فقال عمر: انت اكذب، ثم قال عمر: الا تخبروني عن اميركم هذا (امجزئ) (١١) هو؟ قلت: (لا) (١٢) والله (ما) (١٣) هو (بمجزئ) (١٤) ولا (كاف) (١٥) ولا ⦗١٥٨⦘ عالم بالسياسة، فعزله (وبعث) (١٦) المغيرة ابن شعبة (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) ورد في [ط]: (لا).
(٣) ورد في [أ، ب، جـ، ط]: (عن منزلتكم)، وفي [هـ]: (بمنزلتكم).
(٤) في [أ، هـ]: (لا أسالكما).
(٥) ورد في [م]: (منزلين)، وفي [أ، هـ]: (المنزلتين).
(٦) في [هـ]: (إحدى).
(٧) ورد في [م]: (منزلين)، وفي [أ، هـ]: (المنزلتين).
(٨) ورد في [ط]: (فأدناها)، وفي [هـ]: (فأدنا).
(٩) أي: شعتها، وفي [هـ]: (وعليها)، وفي [س]: (وعكتها)، وفي [ظ]: (وغلثها).
(١٠) في [هـ]: (بقها) غير منقوطة.
(١١) في [أ، ب، جـ، ط]: (أمجري)، وفي [هـ]: (أهجري).
(١٢) سقط من: [ط، هـ].
(١٣) في [أ، هـ]: (لا).
(١٤) في [أ]: (بمجري)، وفي [ب]: (مجري)، وفي [ط]: (فجرى)، وفي [م]: (مجزي)، وفي [هـ]: (بهجري).
(١٥) في [أ، ح، ط، هـ]: (كان).
(١٦) في [هـ]: (فبعث).
(١٧) صحيح.

قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم مجھے خبر دیتے نہیں اپنی ان دو منزلوں کے بارے میں، لیکن اس کے باوجود میں تم سے پوچھوں گا اور میں تمہارے چہروں سے معلوم کروں گا کہ کون سی منزل بہتر ہے، کہتے ہیں کہ جریر نے آپ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک منزل تو درختوں کے اعتبار سے عرب کی زمین کے قریب قریب ہے، اور دوسری منزل فارس کی زمین ہے جس میں سخت بخار اور گرمی اور کھٹمل ہیں، یعنی مدائن، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمار نے جھٹلایا اور کہا کہ تم نے جھوٹ کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اس سے زیادہ جھوٹ بولا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے اپنے اس امیر کے بارے میں بتاؤ، کیا یہ معقول اور مناسب آدمی ہے؟ لوگوں نے کہا واللہ! نہ تو یہ بہتر کام کرنے والے ہیں اور نہ اکیلے کفایت کرنے والے ہیں اور نہ ہی سیاست کو جانتے ہیں، چناچہ آپ نے ان کو معزول کردیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32711، ترقيم محمد عوامة 31323)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32711 in Urdu