مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
118. من قال: يرث ما لم يقسم الميراث
ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ وہ وارث ہو گا جب تک میراث تقسیم نہ ہو
ترقیم عوامۃ: 32294 ترقیم الشثری: -- 33797
٣٣٧٩٧ - حدثنا (عبيد الله) (١) قال: ثنا زكريا بن ابي زائدة قال: اخذت هذه الفرائض من فراس زعم (انه) (٢) كتبها له الشعبي: ١. قضى زيد بن ثابت وابن مسعود ان الإخوة من الاب والام شركاء الإخوة من الام في بنيهم ذكرهم وانثاهم، وقضى علي (٣) لبني الام دون بني الاب والام. ٢. وقضى علي وزيد انه (لا ترث جدة) (٤) -ام اب- مع ابنها، وورثها عبد الله مع ابنها السدس. ⦗٤٠٣⦘ ٣. امراة تركت امها وإخوتها كفارا ومملوكين: قضى علي وزيد لامها الثلث ولعصبتها الثلثين، كانا لا يورثان كافرا ولا مملوكا من مسلم حر ولا يحجبان به، وكان ابن مسعود يحجب بهم ولا يورثهم فقضى للام السدس [وللعصبة ما بقي. ٤. امراة تركت زوجها وإخوتها لامها ولها ابن مملوك: قضى علي وزيد لزوجها النصف ولإخوتها الثلث] (٥) وللعصبة ما بقي، وقضى عبد الله للزوج الربع وما بقي فهو للعصبة. ٥. امراة تركت امها وإخوتها كفارا ومملوكين قضى علي وزيد لامها الثلث و (للعصبة) (٦) ما بقي، وقضى عبد الله لامها السدس وللعصبة ما بقي. ٦. امراة تركت زوجها وإخوتها لامها ولا عصبة لها: قضى زيد للزوج النصف وللإخوة الثلث، وقضى علي وعبد الله ان يرد ما بقي على الإخوة من الام؛ لانهما كانا لا يردان من فضول الفرائض على الزوج شيئا، ويردانها على ادنى رحم (يعلم) (٧) . ٧. امراة تركت امها قضوا جميعا للام الثلث: وقضى علي وابن مسعود (برد) (٨) ما بقي على الام. ٨. رجل ترك اخته لابيه وامه، (وامه) (٩) : قضوا جميعا لاخته لابيه وامه النصف ولامه الثلث، وقضى علي وعبد الله ان يرد ما بقي وهو سهم ⦗٤٠٤⦘ عليها على قدر ما (ورثا) (١٠) ، فيكون للاخت ثلاثة اخماس ويكون للام (خمسا) (١١) المال. ٩. رجل ترك اخته لابيه وجدته وامراته: قضوا جميعا لاخته النصف ولامراته الربع، ولجدته سهم، ورد (علي) (١٢) ما بقي على اخته وجدته على قسمة فريضتهم، واما عبد الله فرده على الاخت لانه كان لا يرد على جدة إلا ان (لا) (١٣) يكون وارثا غيرها. ١٠. امراة تركت امها واختها لامها: قضوا جميعا لامها الثلث ولاختها السدس، ورد علي ما بقي عليها على قسمة فريضتهم فيكون للام الثلثان، وللاخت الثلث، وقضى عبد الله ان ما بقي يرد على الام لانه كان لا يرد على إخوة مع ام لام، فيصير للام خمسة اسداس، وللاخت سدس. ١١. امراة تركت اختها لابيها وامها، واختها لابيها: قضوا جميعا (لاختها) (١٤) لابيها وامها النصف، ولاختها لابيها السدس، ورد (١٥) ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، فيكون للاخت من الاب والام ثلاثة ارباع، وللاخت للاب (ربع) (١٦) ، ورد عبد الله ما بقي على الاخت من الاب والام فيصير لها خمسة اسداس المال، ⦗٤٠٥⦘ وللاخت للاب (سدس) (١٧) (١٨) المال، كان لا يرد على اخت لاب مع اخت (لاب وام) (١٩) . ١٢. امراة تركت إخوتها لابيها وامها: قضوا جميعا لامها السدس (ولإخوتها الثلث) (٢٠) ، ورد (٢١) ما بقي عليهم على قسمة فريضتهم، فيكون للام الثلث وللإخوة الثلثان، واما عبد الله (فإنه رد) (٢٢) ما بقي على الام، فيكون للام الثلثان وللإخوة الثلث. ١٣. امراة تركت ابنتها وابنة ابنها: قضوا جميعا لابنتها النصف، ولابنة ابنها السدس، ورد علي ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، ورد عبد الله ما بقي على الابنة خاصة. ١٤. امراة (تركت) (٢٣) ابنتها وجدتها: قضوا جميعا للابنة النصف، وللجدة السدس، ورد علي ما بقي عليهما على قسمة فريضتهم، ورد عبد الله ما بقي على الابنة خاصة. ١٥. امراة تركت ابنتها، وابنة ابنها، وامها: قضوا جميعا ان لابنتها النصف، ولابنة ابنها السدس، ولامها السدس، ورد (٢٤) ما بقي عليهم على قسمة فريضتهم، ⦗٤٠٦⦘ ورد عبد الله ما بقي على الابنة والام، واما زيد بن ثابت فإنه جعل الفضل من ذلك كله في بيت المال، لا يرد على وارث شيئا، ولا يزيد ابدا على فرائض الله شيئا. ١٦. امراة تركت إخوتها من امها رجالا ونساء وهم عصبتها: يقتسمون الثلث (بينهم) (٢٥) بالسوية، والثلثان لذكورهم دون النساء (٢٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (أنها).
(٣) في [أ، ب، جـ]: زائدة (أن)، وفي [م]: زائدة (أنه).
(٤) في [ب]: (لا يرث جده).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، هـ].
(٦) في [م]: (لعصبتها).
(٧) في [م]: (تعلم).
(٨) في [أ، ب، هـ]: (يرد).
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٠) في [هـ]: (بقي ورقا).
(١١) في [أ، ب]: (خمسي).
(١٢) سقط من: [أ، ب].
(١٣) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(١٤) في [جـ]: (لأمها لأمها).
(١٥) في [هـ]: زيادة (عليٌ).
(١٦) في [ب]: (الربع)، وفي [أ]: (الربغ).
(١٧) في [ب]: (السدس)، وفي [أ]: (السدش).
(١٨) في [ب]: زيادة (من).
(١٩) في [جـ، م]: تقديم وتأخير.
(٢٠) في [ب]: (ولإخوتها السدس).
(٢١) في [هـ]: زيادة (عليٌّ).
(٢٢) بياض في [س].
(٢٣) سقط من [جـ].
(٢٤) في [هـ]: زيادة (علي).
(٢٥) سقط من: [هـ].
(٢٦) صحيح.
زکریا بن ابی زائدہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فرائض فراس سے حاصل کیے، اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ ان کو شعبی نے لکھ کردیے ہیں: ١- حضرت زید بن ثابت اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ حقیقی بھائی ماں شریک بھائیوں کے ساتھ مذکر اور مؤنث اولاد کے مال میں شریک ہیں، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ماں شریک بھائیوں کے لیے مال ہے حقیقی بھائیوں کے لئے نہیں ہے۔ ٢- اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دادی اپنے بیٹے کے ہوتے ہوئے وارث نہیں ہوتی اور حضرت عبداللہ نے اس کو اس کے بیٹے کے ہوتے ہوئے مال کے چھٹے حصّے کا وارث بنایا۔ ٣- ایک عورت نے اپنی ماں اور بھائیوں کو کفر اور غلامی کی حالت میں چھوڑا، ا س کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں کے لئے تہائی مال اور عصبہ کے لئے دو تہائی مال ہے، اور دونوں حضرات کا فر اور غلام کو آزاد مسلمان سے وارث نہیں بناتے تھے، اور اس سے محروم بھی نہیں کرتے تھے، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہان کے ذریعے محروم تو کرتے، لیکن ان کو وارث نہیں بناتے تھے، انہوں نے ماں کے لئے چھٹے حصّے کا فیصلہ فرمایا اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا۔ ٤- ایک عورت نے اپنے شوہر اور ماں شریک بھائیوں کو چھوڑا اور اس کا ایک بیٹا غلام تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے اس کے شوہر کے لئے نصف بھائیوں کے لیے تہائی اور عصبہ کے لئے بقیہ کا فیصلہ فرمایا اور حضرت عبد اللہ نے شوہر کے لئے چوتھائی اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا۔ ٥- ایک عورت نے اپنی ماں اور بھائیوں کو کفر اور غلامی کی حالت میں چھوڑا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کے لئے ایک تہائی اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت عبد اللہ نے اس کی ماں کے لئے مال کے چھٹے حصّے اور عصبہ کے لئے بقیہ مال کا فیصلہ فرمایا۔ ٦- ایک عورت نے اپنے شوہر اور ماں شریک بھائیوں کو چھوڑا اور اس کا کوئی عصبہ نہیں تھا، حضرت زید نے شوہر کے لئے نصف اور بھائیوں کے لئے ایک تہائی کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال دوبارہ ماں شریک بھائیوں پر لوٹا دیا جائے، کیونکہ وہ فرائض میں سے بچے ہوئے مال میں سے شوہر پر کچھ نہیں لوٹاتے تھے، اور اس کو قریبی رشتہ داروں پر لوٹاتے تھے جو معلوم ہو۔ ٧- ایک عورت نے اپنی ماں کو چھوڑا، تمام حضرات نے ماں کے لئے ایک تہائی مال کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود نے بقیہ مال کو ماں پر لوٹانے کا فیصلہ فرمایا۔ ٨- ایک آدمی نے اپنی حقیقی بہن اور ماں کو چھوڑا، تمام حضرات نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی حقیقی بہن کے لئے نصف اور ماں کے لئے ایک تہائی مال ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال جو ایک حصّہ ہے ان دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا دیا جائے، اس طرح بہن کے لئے تین پانچویں حصّے (٥/٣) اور ماں کے لئے دو پانچویں حصّے (٥/٢) ہوں گے۔ ٩- ایک آدمی نے اپنی باپ شریک بہن اور دادی اور بیوی کو چھوڑا، ان سب حضرات نے بہن کے لئے نصف اور بیوی کے لئے ایک چوتھائی مال اور دادی کے لئے ایک حصّے کا فیصلہ فرمایا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ مال اس کی بہن اور دادی پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا دیا، اور حضرت عبد اللہ نے مال بہن پر لوٹا دیا کیونکہ وہ دادی پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے، الّا یہ کہ اس کے علاوہ کوئی وارث نہ ہو۔ ١٠- ایک عورت نے اپنی ماں اور ماں شریک بہن کو چھوڑا، سب نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں کے لیے ایک تہائی مال اور اس کی بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ مال کا دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹانے کا فیصلہ فرمایا، پس ماں کے لئے دو تہائی مال اور بہن کے لئے ایک تہائی مال ہے، اور حضرت عبد اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بقیہ مال ماں پر لوٹایا جائے گا، کیونکہ وہ ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن پر مال کو نہیں لوٹاتے تھے، اس طرح ماں کے لئے پانچ چھٹے حصّے اور بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہوگا۔ ١١- ایک عورت نے اپنی ایک حقیقی بہن اور ایک باپ شریک بہن کو چھوڑا تو سب حضرات نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی حقیقی بہن کے لئے نصف مال اور باپ شریک بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور بقیہ مال ان دونوں پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹایا جائے گا، اس طرح حقیقی بہن کے لئے تین چوتھائی اور باپ شریک بہن کے لئے ایک چوتھائی ہوگا، اور حضرت عبد اللہ نے بقیہ مال کو حقیقی بہن پر لوٹایا، اس طرح اس کے لئے مال کے پانچ چھٹے حصّے ہوں گے، اور باپ شریک بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور آپ حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال نہیں لوٹاتے تھے۔ ١٢- ایک عورت نے اپنی حقیقی بہن اور ماں کو چھوڑا، سب نے اس کی ماں کے لئے چھٹے حصّے اور بھائیوں کے لئے ایک تہائی کا فیصلہ فرمایا، اور بقیہ مال ان پر ان کے حصّے کے مطابق لوٹا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33797]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33797، ترقيم محمد عوامة 32294)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33797 in Urdu