مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32335 ترقیم الشثری: -- 33838
٣٣٨٣٨ - حدثنا محمد بن بشر ثنا سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن انس عن النبي ﷺ قال:"يجتمع المؤمنون يوم القيامة فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا -ويلهمون ذلك- فاراحنا من مكاننا هذا، فياتون فيقولون له: يا آدم، انت ابو البشر! وخلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه، وعلمك اسماء كل شيء، فاشفع لنا إلى ربنا يرحنا من مكاننا هذا، قال: لست (هناكم) (١) ، ويشكو إليهم او يذكر خطيئته التي اصاب، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا نوحا فإنه اول رسول ارسل إلى اهل الارض، فياتون نوحا، فيقول: لست (هناكم) (٢) ، ويذكر سؤاله ربه ما ليس له به علم، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فياتونه فيقول: لست (هناكم) (٣) ، ولكن ائتوا موسى (عبدا) (٤) كلمه الله واعطاه التوراة، فياتونه فيقول: لست (هناكم) (٥) ويذكر لهم قتل النفس بغير نفس، فيستحيي ربه من ذلك، ولكن ⦗٤٢٦⦘ ائتوا (٦) عبد الله ورسوله وكلمة الله وروحه، فياتون عيسى فيقول: لست (لذاكم) (٧) ولست هناكم، ولكن ائتوا محمدا (عبدا) (٨) (٩) غفر الله (له) (١٠) ما تقدم من ذنبه وما تاخر، فياتوني -قال الحسن (١١) : - قال: فانطلق فامشي بين سماطين من المؤمنين، انقطع قول الحسن -فاستاذن على ربي فيؤذن لي، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ان يدعني فيقال: او يقول: ارفع راسك قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم اعود إليه (الثانية) (١٢) ، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقول مثل قوله الاول: قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا، فادخلهم الجنة ثم اعود إليه ثالثة، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني فيقال: سل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم اعود إليه في الرابعة فاقول: يا رب ما بقي إلا من حبسه القرآن (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (هناك).
(٢) في [أ، ب]: (هناك).
(٣) في [أ، ب]: (هناك).
(٤) في [جـ]: (عبد).
(٥) في [أ، ب]: (هناك).
(٦) في [هـ]: زيادة (عيسى).
(٧) في [جـ]: (كذاكم)، وفي [هـ]: (لذاكم).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة في [ب]: ﷺ.
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) عند النسائي (١١٢٤٣): (قال سعيد)، فذكر هذا الحرف عن الحسن: (فأمشي بين سماطين من المؤمنين)، ثم عاد إلى حديث أنس، وبنحوه في مسند أحمد (١٢١٧٤)، والسنة لابن أبي عاصم (٨٠٨).
(١٢) في [هـ]: (ثانية).
(١٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٧٦)، ومسلم (١٩٣).
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤمنین جمع ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے سامنے سفارشی پیش کریں۔ ”اس بات کا ان کو القاء ہوگا“ تو اللہ ہمیں اس جگہ راحت عطا فرما دیں گے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں اور اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں، کہ وہ اس جگہ سے ہمیں آرام بخشیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے شکایت ذکر کریں گے یا اپنی غلطی بیان کریں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی، اور اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اہل زمین کی طرف بھیجا گیا، چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور وہ اپنے رب سے اس سوال کا ذکر کریں گے جس کا ان کو علم نہیں تھا، اور اپنے رب سے شرمائیں گے لیکن تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، وہ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور ان کو توراۃ عطا فرمائی، وہ ان کے پاس جائیں گے لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے بغیر کسی جان کے عوض کے ایک جان کو قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمہ اور روح اللہ کے پاس جاؤ، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کے لئے نہیں، اور میرا یہ مقام نہیں، لیکن تم محمد 5 کے پاس جاؤ جن کے پچھلے اور اگلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں، حسن فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں مؤمنین کی دو قطاروں کے درمیان چلوں گا، ”حسن کا قول ختم ہوگیا۔ ‘ ‘ پھر اپنے رب سے اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جتنا عرصہ چاہیں گے مجھے اس حال میں چھوڑیں گے، پھر کہا جائے گا، یا پھر کہیں گے کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمد کروں گا جو مجھے اللہ سکھائیں گے، پس میری شفاعت قبول کی جائے گی، اللہ مجھے ایک حد بیان فرمائیں گے اور میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا، جب اپنے رب کو دیکھوں گا سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ مجھے کافی عرصہ اس حال میں رکھیں گے، پھر پہلے کی طرح فرمائیں گے کہ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور ایسی حمد کروں گا جو اللہ مجھے سکھائیں گے، پھر کہا جائے گا مانگیے آپ کو دیا جائے گا، اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا، پھر اللہ میرے لئے ایک حد قائم فرمائیں گے اور میں ان کو جنت میں داخل کروں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کی طرف لوٹ کر آؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب! ان لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا جن کو قرآن نے روک لیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33838، ترقيم محمد عوامة 32335)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33838 in Urdu