🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32358 ترقیم الشثری: -- 33861
٣٣٨٦١ - حدثنا هوذة قال: ثنا عوف عن (زرارة) (١) بن اوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"لما كان ليلة اسري بي واصبحت بمكة (فظعت) (٢) بامري وعرفت ان الناس مكذبي"، فقعد رسول الله ﷺ معتزلا حزينا فمر به ابو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال له كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال:"نعم"، [قال: وما هو؟ قال:"إني اسري بي الليلة"، قال: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قال: ثم اصبحت بين (اظهرنا؟) (٣) قال:"نعم"] (٤) ، فلم (يره) (٥) انه يكذبه مخافة ان (يجحد) (٦) الحديث إن دعا قومه إليه، قال: اتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال:"نعم"، قال: هيا يا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: (فتنفضت) (٧) المجالس، فجاؤوا (حتى) (٨) جلسوا إليهما، فقال له: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول الله ﷺ:"إني اسري بي الليلة"، قالوا: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم اصبحت بين ظهرانينا؟ قال:"نعم"، قال: فبين مصفق وبين واضع يده على راسه متعجبا للكذب زعم، وقالوا (لي) (٩) : اتستطيع ان تنعت لنا المسجد، قال: وفي القوم من قد سافر إلى ذلك البلد وراى المسجد، قال رسول الله ﷺ:"فذهبت انعت لهم، فما زلت انعت لهم وانعت حتى التبس علي بعض ⦗٤٣٧⦘ النعت، فجيء بالمسجد وانا انظر إليه حتى وضع دون دار عقيل او دار عقال، فنعته وانا انظر إليه"، (فقال) (١٠) القوم: اما النعت -فوالله- قد اصاب (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذرارة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فصعب).
(٣) في [هـ]: (ظهرانينا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: (يرد).
(٦) في [هـ]: (يجحده).
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: (فتنقضت).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة (لي) من: [أ، ب، جـ، م].
(١٠) في [جـ]: (فقام).
(١١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب معراج کی رات ہوئی اور میں نے مکہ میں صبح کی تو میں اپنے معاملے میں حیران ہوگیا اور مجھے لگا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے غمزدہ بیٹھ گئے، چناچہ ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا، اور آپ سے مذاق کے انداز میں کہا کہ کیا کچھ ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! اس نے کہا کیا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے آج رات معراج کروائی گئی، اس نے کہا کہاں کی؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر صبح آپ ہمارے پاس پہنچ گئے؟ فرمایا جی ہاں! اس نے تکذیب ظاہر نہ کی اس خوف سے کہ اگر وہ اپنی قوم کو آپ کے پاس بلائے گا تو کہیں آپ انکار نہ کردیں، چناچہ اس نے کہا اے بنو کعب بن لؤیّ کی جماعت! آؤ، چناچہ مجلس چھٹ گئی اور وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، اس نے آپ سے کہا کہ اپنی قوم کو بھی وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھے معراج کروائی گئی، انہوں نے کہا کہاں کی؟ آپ نے فرمایا بیت المقدس کی، وہ کہنے لگے پھر صبح کے وقت آپ ہمارے پاس پہنچ گئے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! کہتے ہیں کہ بعض تالیاں پیٹنے لگے اور بعض نے تعجب سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا، اور مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں مسجد کی صفت بیان کرسکتے ہیں؟ اور لوگوں میں سے بعض نے اس شہر کا سفر کیا ہوا تھا اور مسجد کو دیکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کو صفت بیان کرنے لگا، یہاں تک کہ بعض صفات میں مجھے شک ہوگیا، چناچہ مسجد کو میرے سامنے لایا گیا جبکہ میں اس کو دیکھ رہا تھا، اور دار عقیل یا دار عقال کے سامنے رکھ دی گئی، میں اس کو دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ صفت تو بخدا بالکل درست ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33861]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33861، ترقيم محمد عوامة 32358)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33861 in Urdu