مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32384 ترقیم الشثری: -- 33887
٣٣٨٨٧ - حدثنا مروان عن عوف عن ابي رجاء قال: ثنا عمران بن الحصين قال: كنا مع رسول الله ﷺ في سفر فشكا الناس إليه العطش، فدعا فلانا ودعا عليا، (فقال) (١) :"اذهبا (فابغياني) (٢) الماء"، فانطلقا فتلقيا امراة معها مزادتان او سطحيتان، قال: فجاءا بها إلى النبي ﷺ (٣) فدعا النبي ﷺ (٤) بإناء فافرغ فيه من ⦗٤٤٩⦘ افواه المزادتين او السطحيتين ثم اوكا افواههما، واطلق العزالى، ونودي في الناس: ان اسقوا واستقوا، قال: فسقى من سقى (واستقى من استقى) (٥) ، قال: وهي قائمة تنظر إلى ما يصنع بمائها، قال: فوالله لقد اقلع عنها حين اقلع وإنه ليخيل إلينا انها اشد (ملاءا) (٦) منها (حيث) (٧) ابتدا فيها فقال رسول الله ﷺ:"والله ما رزاناك من ماءك شيئا، ولكن الله سقانا" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) في [هـ]: (فابغيا لي).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) في [م]: ﵇.
(٥) في [أ، ب، جـ]: (واستستقى من استسقى).
(٦) في [هـ]: (ملاءة).
(٧) في [هـ]: (حين).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں کو پیاس کی شکایت ہوئی، آپ نے فلاں کو اور علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور فرمایا کہ جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو، چناچہ وہ چلے اور انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس دو مٹکے یا مشکیزے تھے، وہ اس عورت کو نبی 5 کے پاس لائے، نبی 5 نے ایک برتن منگایا اور اس میں مشکیزوں یا مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا پھر ان کے منہ بند کردیے اور رسّی چھوڑی، اور لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ پانی لے لو اور بھر لو، چناچہ جس نے پینا تھا پی لیا اور جس نے بھرنا تھا بھر لیا، اور وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کا کیا کیا جار ہا ہے، کہتے ہیں واللہ! اس کو اس طرح چھوڑا گیا کہ ہمیں گمان ہو رہا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا بلکہ ہمیں اللہ نے پلایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33887، ترقيم محمد عوامة 32384)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33887 in Urdu