🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32410 ترقیم الشثری: -- 33913
٣٣٩١٣ - حدثنا سويد بن عمرو الكلبي ومالك (بن) (١) إسماعيل عن ابي عوانة عن قتادة عن ابي المليح عن عوف بن مالك الاشجعي قال: عرس بنا رسول الله ﷺ ذات ليلة، فافترش كل واحد منا ذراع راحلته، فانتبهت بعض الليل فإذا ناقة ⦗٤٦٠⦘ رسول الله ﷺ (٢) ليس قدامها احد، فانطلقت اطلب رسول الله ﷺ فإذا معاذ بن جبل وعبد الله بن قيس قائمان، قال: قلت: اين رسول الله ﷺ؟ قالا: لا ندري غير انا سمعنا صوتا في اعلى الوادي (فإذا) (٣) مثل هزيز الرحى، فلم نلبث (إلا) (٤) يسيرا حتى اتى رسول الله ﷺ فقال:"إنه اتاني الليلة آت من ربي فخيرني (بين) (٥) ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة، واني اخترت الشفاعة"، قال: (فقلنا) (٦) : يا رسول الله ننشدك الله والصحبة لما جعلتنا من اهل شفاعتك، قال:"فانتم من اهل شفاعتي"، قال: فاقبلنا معانيق إلى الناس، قال: فإذا هم قد فزعوا وفقدوا نبيهم ﷺ فقال:"إنه اتاني الليلة آت من ربي فخيرني بين ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة، وإني اخترت الشفاعة"، فقالوا: يا رسول الله ننشدك الله والصحبة لما جعلتنا من اهل شفاعتك، فلما (اضبوا) (٧) عليه قال:"فإني اشهد من حضر ان شفاعتي لمن مات (من امتي) (٨) لا يشرك بالله شيئا" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عن أبي).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [أ، ب]: سقطت (إلا).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٦) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٧) أي: أكروا عليه الكلام وفي [أ، ب]: (أصبوا).
(٨) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٠٠٢)، والترمذي (٢٤٤١)، وابن ماجه (٤٣١٧)، وابن حبان (٢١١)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٨٥، وابن خزيمة في التوحيد ٢/ ٦٤١، والحاكم ١/ ٦٧، وعبد الرزاق (٢٠٨٦٥)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٨)، والطبراني ١٨/ (١٣٤) والطيالسي (٩٩٨)، وهناد في الزهد (١٨١)، والآجري في الشريعة ص ٣٤٢، وابن هنده في الإيمان (٩٢٥)، وابن الأثير ٤/ ٣١٢.

حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرے، چناچہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی سواری کے اگلے پاؤں پر سرہانہ لگا لیا، میں رات کے کسی حصّے میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی نہیں، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلا تو معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن قیس کھڑے تھے، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ کہنے لگے کہ ہمیں اس کے علاوہ کوئی علم نہیں کہ ہم نے وادی کے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی تو سنا کہ پن چکّی جیسی آواز آرہی تھی، چناچہ ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں سے کر دیجئے، آپ نے فرمایا تم میری شفاعت کے حصّہ داروں میں ہو، کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے لوگوں کے پاس آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور نبی 5 کو تلاش کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل کیے جانے اور میری شفاعت کے درمیان اختیار دیا، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں کر دیجئے، آپ نے فرمایا کہ میں تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33913]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33913، ترقيم محمد عوامة 32410)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33913 in Urdu