مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32462 ترقیم الشثری: -- 33965
٣٣٩٦٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد قال ثنا ابو (سنان) (٢) عن عبد الله بن مالك عن مكحول قال: كان لعمر على رجل من اليهود حق (فاتاه) (٣) يطلبه فلقيه، فقال له عمر: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٤) على (البشر لا) (٥) افارقك وانا اطلبك بشيء، فقال اليهودي: ما اصطفى الله محمدا على البشر، فلطمه عمر، فقال: بيني وبينك ابو القاسم، فقال: إن عمر قال: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٦) على ⦗٤٨٤⦘ البشر، (فقلت) (٧) له: ما اصطفى الله محمدا على البشر، فلطمني، فقال:"اما انت يا عمر فارضه من لطمته، بلى يا يهودي (آدم صفي الله، وإبراهيم خليل الله، وموسى نجي الله، وعيسى روح الله، وانا حبيب الله، بلى يا يهودي) (٨) (تسمى) (٩) الله باسمين سمى بهما امتي هو السلام، وسمى امتي المسلمين، وهو المؤمن وسمى امتي المؤمنين، بلى يا يهودي (طلبتم) (١٠) يوما (و) (١١) (ذخر) (١٢) لنا، اليوم لنا (وغدا) (١٣) لكم، وبعد (غد) (١٤) للنصارى، بلى، يا يهودي انتم الاولون ونحن الآخرون السابقون يوم القيامة، بلى إن الجنة محرمة على الانبياء حتى ادخلها، وهي محرمة على الامم حتى (تدخلها) (١٥) امتي" (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يحيى).
(٢) في [أ، هـ]: (سفيان).
(٣) في [أ، ب]: (فأتا).
(٤) سقط من: [م].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [م].
(٧) في [ط، هـ]: (قلت).
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٩) في [هـ]: (سمى).
(١٠) في [أ، ب]: (ضللتم).
(١١) سقط من: [أ، جـ، م].
(١٢) في [أ، ب]: (دخل).
(١٣) في [جـ، م]: (وغد).
(١٤) في [هـ]: (ذلك).
(١٥) في [هـ]: (يدخلها).
(١٦) مرسل؛ مكحول تابعي، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٤١٧٩).
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک یہودی پر حق تھا، آپ اس سے مطالبہ کرنے آئے اور اس سے ملے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد 5 کو چنا ہے میں تجھ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تھوڑی سی چیز باقی نہ رہ جائے، یہودی نے کہا اللہ نے محمد 5 کو انسانوں پر نہیں چنا، حضرت عمر نے اس کو طمانچہ مارا، اور فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم 5 فیصلہ کریں گے، اس نے کہا عمر نے مجھ سے کہا تھا کہ ”اس ذات کی قسم جس نے محمد کو انسانوں پر فضیلت بخشی ہے، ”میں نے کہا کہ اللہ نے محمد کو انسانوں پر فضیلت نہیں بخشی، اس پر انہوں نے مجھے طمانچہ مارا، آپ نے فرمایا اے عمر! تم اس کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے اس کو راضی کرو، اور اے یہودی! ہاں آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ نجی اللہ، عیسیٰ روح اللہ، اور میں حبیب اللہ ہوں، اے یہودی! ہاں اللہ نے اپنے دو نام اختیار فرمائے اور میری امت کو بھی عطا کیے، وہ ”السلام“ ہے، اور اس نے میری امت کا نام مسلمین رکھا ہے اور وہ ”مومن“ ہے اور اس نے میری امت کا نام ”مؤمنین“ رکھا ہے، ہاں! اے یہودی تم نے اس دن کو تلاش کیا جو ہمارے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا، آج کا دن ہمارا، کل کا تمہارا اور پرسوں کا نصاریٰ کا ہے، ہاں اے یہودی! تم پہلے ہو اور ہم آخری ہیں اور جنت میں قیامت کے دن سب سے پہلے پہنچنے والے ہیں، ہاں بیشک جنت انبیاء پر حرام ہے یہاں تک کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں، اور وہ تمام امتوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میری امت اس میں داخل ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33965، ترقيم محمد عوامة 32462)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33965 in Urdu