🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في لوط ﵇
ان فضیلتوں کا ذکر جو سیدنا لوط علیہ السلام کے بارے میں آئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32495 ترقیم الشثری: -- 33998
٣٣٩٩٨ - حدثنا ابو اسامة (قال: حدثنا) (١) سليمان بن (المغيرة) (٢) عن حميد بن هلالى قال: قال جندب: قال حذيفة: لما ارسلت الرسل إلى قوم لوط ليهلكوهم قيل لهم: لا تهلكوهم حتى يشهد عليهم لوط ثلاث مرار، قال: وكان طريقهم على إبراهيم ﵇ قال: فاتوا إبراهيم، قال: فلما بشروه بما بشروه قال: ﴿فلما ذهب عن إبراهيم الروع وجاءته البشرى يجادلنا في قوم لوط﴾ [هود: ٧٤] ، قال: وكان مجادلته إياهم انه قال: ارايتم إن كان فيها خمسون من المسلمين اتهلكوهم؟ قالوا: لا، قال: افرايتم إن كان فيها اربعون؟ قال: قالوا: لا، حتى انتهى إلى عشرة او خمسة -حميد شك في ذلك- قال: (قالوا) (٣) : فاتوا لوطا وهو يعمل في ارض له، قال: فحسبهم بشرا، قال: فاقبل بهم خفيا (حين) (٤) امسى إليه اهله، قال: فمشوا معه فالتفت إليهم، قال: وما تدرون ما يصنع هؤلاء؟ قالوا: وما يصنعون؟ فقال: ما من الناس احد هو اشر منهم؟ قال: فلبسوا (اداتهم) (٥) على ما ⦗٤٩٦⦘ قال ومشوا معه، قال: ثم قال مثل هذا، فاعاد عليهم مثل هذا ثلاث مرار، قال: فانتهى بهم إلى اهله، قال: فانطلقت امراته العجوز عجوز السوء إلى قومه فقالت: لقد تضيف لوط الليلة رجالا ما رايت رجالا قط احسن منهم وجوها ولا اطيب ريحا منهم، قال: فاقبلوا يهرعون إليه (حتى دافعوه) (٦) الباب حتى كادوا يغلبونه عليه، قال فاهوى ملك منهم بجناحه، (قال) (٧) : فصفقه دونهم، قال: وعلا لوط الباب و (علوه) (٨) معه، قال: فجعل يخاطبهم ﴿هؤلاء بناتي هن اطهر لكم فاتقوا الله ولا تخزون في ضيفي اليس منكم رجل رشيد﴾، قال: فقالوا: ﴿قالوا لقد علمت ما لنا في بناتك من حق﴾ قال: فقال: ﴿لو ان لي بكم قوة او آوي إلى ركن شديد﴾ قال: قالوا: ﴿يالوط إنا رسل ربك لن يصلوا إليك﴾ قال: فذاك حين علم انهم رسل الله، ثم قرا إلى قوله: ﴿اليس الصبح بقريب﴾ [هود: ٧٨ - ٨١] ، قال: وقال ملك، فاهوى يحناحه هكذا -يعني شبه الضرب، (فما) (٩) غشيه احد منهم تلك الليلة إلا عمي، قال: فباتوا بشر ليلة عميانا ينتظرون العذاب، قال: وسار باهله (١٠) ، قال: استاذن جبريل في هلكتهم فاذن (له) (١١) فاحتمل الارض التي كانوا عليها، قال: (فالوى) (١٢) بها حتى سمع اهل سماء الدنيا (ضغاء) (١٣) كلابهم، قال: ثم قلبها بهم، ⦗٤٩٧⦘ قال: فسمعت امراته -يعني لوط ﵇ (١٤) الوجبة وهي معه (فالتفتت) (١٥) فاصابها العذاب، قال: وتتبعت (سفارهم) (١٦) بالحجارة (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عن).
(٢) في [ب]: (مغيرة).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [هـ]: (حتى).
(٥) في [م، هـ]: (آذانهم).
(٦) في [هـ]: (فدافعوه).
(٧) سقط من: [جـ، م].
(٨) في [هـ]: (علوا).
(٩) في [ب، جـ]: (فلما).
(١٠) في [هـ]: زيادة (حتى).
(١١) سقط من: [أ، ب، م].
(١٢) في [هـ]: (فأهوى).
(١٣) في [هـ]: (صغاء).
(١٤) سقط من: [م].
(١٥) في [ب]: (فالتفت).
(١٦) في [أ، ب]: (بنارهم).
(١٧) صحيح؛ أخرج بعضه ابن أبي حاتم في التفسير (١١٠٣٧) و (١١٠٥١)، وابن قتيبة في غريب الحديث ٢/ ٢٦٠، وابن جرير ١٢/ ٨١، وفي التاريخ ١/ ١٧٨، وعبد الرزاق في التفسير ٢/ ٣٠٧.

جندب روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب قوم لوط علیہ السلام کو ہلاک کرنے کے لئے دو فرشتے بھیجے گئے تو ان سے کہا گیا کہ ان کو اس وقت تک ہلاک نہ کرنا جب تک لوط علیہ السلام ان پر تین مرتبہ گواہی نہ دے دیں، کہتے ہیں کہ ان کا راستہ ابراہیم علیہ السلام سے ہو کر گزرتا تھا، چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور ان کو خوشخبری سنائی، اللہ فرماتے ہیں { فَلَمَّا ذَہَبَ عَنْ إبْرَاہِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْرَی یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ } کہتے ہیں کہ ان کا ان سے جھگڑا اس طرح ہوا کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس بستی میں پچاس مسلمان ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کر ڈالو گے؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا تو پھر اگر اس میں چالیس مسلمان ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کر ڈالو گے؟ انہوں نے کہا نہیں، یہاں تک کہ آپ دس یا پانچ تک پہنچ گئے، حمید راوی کو اس میں شک ہے۔ چناچہ وہ اس کے بعد لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی زمین پر کام کر رہے تھے، انہوں نے ان کو انسان سمجھا، چناچہ وہ ان کو خفیہ طور پر اپنے گھر لے چلے۔ (٢) اس کے بعد وہ ان کے ساتھ چلے، تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگے کیا کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ لوگوں میں ان سے بدترین کوئی نہیں، چناچہ انہوں نے اس پر کوئی بات نہ کی، اور ان کے ساتھ چلنے لگے، پھر انہوں نے دوبارہ ایسے ہی کہا، تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تین مرتبہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد وہ ان کو گھر لے کر پہنچ گئے، چناچہ ان کی بڑھیا بیوی ان کی قوم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ لوط کے پاس آ ج رات ایسے آدمی مہمان ہوئے ہیں جن سے زیادہ خوبصورت اور خوشبودار لوگ نہیں دیکھے۔ (٣) چناچہ وہ دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے یہاں تک کہ دروازہ دھکیلنے لگے قریب تھا کہ اس کو گرا دیتے، چناچہ ایک فرشتے نے اپنا پر ان کو مارا اور ان کو ہٹا دیا، اور لوط علیہ السلام دروازے پر چڑھ گئے اور وہ بھی چڑھ گئے، اور آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا ”یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے زیادہ پکیزہ ہیں۔ مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں ہے۔“ وہ کہنے لگے ”تم جانتے ہو کہ ہمارا تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں اور جو ہمارا ارادہ ہے وہ بھی تمہیں پتہ ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”کاش مجھے کوئی قوت حاصل ہوتی اور کاش میں بھی کسی مضبوط مددگار سے مدد لے سکتا۔“ وہ کہنے لگے ”اے لوط! ہمارے تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔“ اس وقت ان کو علم ہوا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ پھر آپ نے (أَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ) تک تلاوت فرمائی۔ (٤) کہتے ہیں کہ ایک فرشتے نے اپنے پر کو اس طرح حرکت دی جس طرح مارتے ہیں چناچہ جہاں تک وہ پر پہنچے سب لوگ اندھے ہوگئے، چناچہ انہوں نے اندھے ہونے کی حالت میں بدترین رات گزاری اور وہ عذاب کا انتظار کر رہے تھے، اور لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر چلے اور جبرائیل نے ان کو ہلاک کرنے کی اجازت مانگی اور ان کو اجازت دے دی گئی، انہوں نے اس زمین کو اٹھایا جس پر وہ تھے اور اس کو بلند کردیا یہاں تک کہ آسمان دنیا کے فرشتوں نے ان کے کتوں کی آوازیں سنیں، پھر انہوں نے اس کو پلٹ دیا، آپ کی بیوی نے جو آپ کے ساتھ تھی آواز سنی اور اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کو بھی عذاب نے آلیا، اور ان کے سفیروں پر بھی پتھر برسے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33998، ترقيم محمد عوامة 32495)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33998 in Urdu