🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. ما ذكر (من) فضل إدريس ﵇
وہ فضیلتیں جو سیدنا ادریس علیہ السلام کی ذکر کی گئیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32544 ترقیم الشثری: -- 34048
٣٤٠٤٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة الاشجعي عن عكرمة عن ابن عباس قال: سالت كعبا عن رفع إدريس مكانا عليا فقال: اما رفع إدريس مكانا عليا فكان عبدا تقيا، يرفع له من العمل الصالح ما يرفع لاهل الارض في اهل زمانه، قال: فعجب الملك الذي كان يصعد عليه عمله، فاستاذن ربه إليه، قال: رب ائذن لي إلى عبدك هذا فازوره، فاذن له فنزل (قال) (١) : يا إدريس، ابشر فإنه يرفع لك من العمل الصالح مالا يرفع لاهل الارض، قال: وما علمك؟ قال: إني ملك، قال: وإن كنت ملكا، قال: (فإني) (٢) على الباب الذي يصعد عليه عملك، ⦗٥٢٢⦘ قال: افلا تشفع لي إلى ملك الموت فيؤخر من اجلي (لازداد) (٣) شكرا وعبادة، قال (له) (٤) الملك: لا يؤخر الله نفسا إذا جاء اجلها، قال: قد علمت، ولكنه اطيب لنفسي، فحمله الملك على جناحه فصعد به إلى السماء فقال: يا ملك الموت هذا عبد تقي نبي، يرفع (له) (٥) من العمل الصالح مالا يرفع لاهل الارض، وإنه اعجبني ذلك، فاستاذنت إليه ربي، فلما بشرته بذلك سالني لاشفع له إليك (لتؤخر) (٦) من اجله فيزداد شكرا وعبادة لله، قال: ومن هذا؟ قال: (هذا) (٧) إدريس، فنظر في كتاب معه حتى مر باسمه فقال: والله ما بقي من اجل إدريس شيء، فمحاه فمات مكانه (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فقال).
(٢) في [ب]: (فأتها).
(٣) في [أ، ب]: (فأزداد)، وفي [جـ]: (فأرذاد).
(٤) سقط من: [م].
(٥) في [جـ]: سقط.
(٦) في [م]: (ليؤخر).
(٧) زيادة (هذا) من: [م].
(٨) صحيح؛ أخرجه ابن جرير ١٦/ ٩٦.

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت کعب سے سوال کیا حضرت ادریس علیہ السلام کیسے اٹھائے گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے بلند جگہ پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرہیز گار بندے تھے ان کے اتنے نیک اعمال آسمان پر پہنچتے تھے جتنے اس زمانے کے تمام لوگوں کے اعمال تھے چناچہ اس فرشتے کو تعجب ہوا جس کے پاس اعمال پہنچتے تھے اس نے اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگی کہ اے اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے اس بندے کی زیارت کروں اللہ نے ان کو اجازت دے دی فرشتہ آیا اور ان کو کہا کہ اے ادریس آپ کو بشارت ہو کہ آپ کے اتنے نیک اعمال آسمان پر پہنچتے ہیں کہ جو تمام اہل زمین کے اعمال سے بڑھ کر ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا میں فرشتہ ہوں، آپ نے فرمایا کہ اگر تم فرشتے ہو تب بھی آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا کہ میں اس دروازے پر مقرر ہوں جس سے آپ کے اعمال جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم ملک الموت سے میری سفارش کرسکتے ہو کہ وہ میری موت مؤخر کر دے تاکہ میں زیادہ شکر اور عبادت کرسکوں فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کی موت کو مؤخر نہیں کرتے جب موت کا وقت آجاتا ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم ہے لیکن یہ میرے لئے زیادہ خوشی کا باعث ہے چناچہ فرشتے نے آپ کو اپنے پر پر اٹھایا اور آسمان پر لے گیا اور کہا اے ملک الموت یہ پرہیز گار بندے اور نبی ہیں اور ا ن کے اتنے نیک اعمال آسمان پر جاتے ہیں جو تمام اہل زمین کے نہیں جاتے اور مجھے یہ بات بہت اچھی لگی اور میں اللہ سے اجازت لے کر اس کے پاس گیا جب میں نے ان کو اس کی بشارت دی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں ان کے لئے سفارش کروں تاکہ ان کی موت کا وقت مؤخر ہوجائے اور یہ اللہ کا شکر اور عبادت کرسکیں، انہوں نے کہا یہ کون ہیں؟ فرشتے نے کہا ادریس علیہ السلام چناچہ ملک الموت نے اپنے رجسٹر میں دیکھا جب ان کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے خدا کی قسم ادریس علیہ السلام کی موت میں کوئی وقت باقی نہیں اور ان کے نام کو مٹا دیا چناچہ وہ وہیں فوت ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34048، ترقيم محمد عوامة 32544)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34048 in Urdu