مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
11. ما ذكر في يحيى بن زكريا ﵇
یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا ذکر
ترقیم عوامۃ: 32567 ترقیم الشثری: -- 34072
٣٤٠٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن منصور ابن صفية عن امه قال: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا: (هذه) (١) اسماء، (قال) (٢) : فاتاها فذكرها ووعظها وقال لها: إن (الجيفة) (٣) (ليست) (٤) بشيء، وإنما الارواح عند الله فاصبري واحتسبي، (فقالت) (٥) : وما يمنعني من الصبر، وقد اهدي راس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (هوذه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: الجثة، فقد وردت بلفظ: (الجثث) في مصادر التخريج وأحكام تمني الموت للشيخ محمد بن عبد الوهاب ص ٤٥، والآيات البينات للألوسي ص ٥٢، وتاريخ الإسلام ٥/ ٣٥٨، وسير أعلام النبلاء ٢/ ٢٩٥، وتهذيب الأسماء ٢/ ٥٩٨.
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (ليس).
(٥) في [هـ]: (قالت).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٦٩/ ٢٦، والفاكهي في أخبار مكة ٢/ ٣٧٦، وابن حزم في المحلى ١/ ٢٢، والفصل ٤/ ٥٧، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٤٠.
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا ہوا تھا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت اسماء تشریف فرما ہیں، آپ ان کے پاس گئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ جسم کوئی چیز نہیں بلکہ اللہ کے پاس تو روحیں پہنچتی ہیں، اس لیے تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، انہوں نے فرمایا کہ مجھے صبر سے کیا چیز روکے گی جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ کو دیا گیا تھا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34072، ترقيم محمد عوامة 32567)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34072 in Urdu