مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
15. ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32609 ترقیم الشثری: -- 34114
٣٤١١٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا صدقة بن المثنى قال: سمعت ⦗١٢⦘ جدي (رياح) (٢) بن الحارث يذكر انه شهد المغيرة بن شعبة وكان بالكوفة في المسجد الاكبر، وكانوا اجمع ما كانوا يمينا وشمالا حتى جاء رجل من اهل المدينة يدعى سعيد بن زيد بن نفيل، فرحب به المغيرة واجلسه عند رجليه على السرير، فبينا هو على ذلك إذ دخل رجل من اهل الكوفة يدعى قيس بن علقمة، فاستقبل المغيرة فسب فسب، فقال له المدني: يا مغير بن شعب، من يسب هذا الشاب، قال: سب علي بن ابي طالب، قال له مرتين: يا مغير بن شعب (يا مغير بن شعب) (٣) الا اسمع اصحاب رسول الله ﷺ يسبون عندك لا تنكر ولا تغير، فإني اشهد على رسول الله ﷺ بما سمعت اذناي وبما وعى قلبي -فإني لن اروي (عنه) (٤) من بعده كذبا فيسالني عنه إذا لقيته- انه قال: ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف (في الجنة) (٥) وسعد في الجنة، وآخر تاسع لو اشاء ان اسميه لسميته؛ قال: فخرج اهل المسجد يناشدونه بالله: يا صاحب رسول الله ﷺ من التاسع؟ قال: نشدتموني بالله والله عظيم، انا تاسع المؤمنين ونبي الله ﷺ العاشر، ثم اتبعها والله لمشهد شهده الرجل منهم يوما واحدا في سبيل الله مع رسول الله ﷺ افضل من عمل احدكم ولو عمر عمر نوح (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (بشير).
(٢) في [هـ]: (رباح).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (عليه).
(٥) سقط من: [م].
(٦) صحيح؛ رياح بن الحارث ثقة، أخرجه أحمد (١٦٢٩)، وأبو داود (٤٦٥٠)، وابن ماجه (١٣٣)، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٣٤)، والنسائي في الكبرى (٨٢١٩)، والشاشي (٢١٦)، وعبد اللَّه في زياداته على الفضائل (٩٠).
حضرت صدقہ بن مثنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حضرت ریاح بن حارث رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا۔ اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک بڑی مسجد میں تھے۔ اور سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں بائیں جمع تھے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص تشریف لائے جن کو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کے نام سے پکارا جا رہا تھا۔ پس حضر ت مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ نے ان کو خوش آمدید کہا۔ اور انہوں نے ان کو تخت پر اپنی ٹانگوں کے پاس بٹھا لیا۔ پس وہ اسی حالت میں تھے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کو قیس بن علقمہ کے نام سے پکارا جا رہا تھا داخل ہوا۔ تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا پس انہوں نے بھی سب و شتم کیا اور اس شخص نے بھی سب و شتم کیا۔ تو اس مدنی شخص نے ان سے کہا: اے مغیرہ بن شعبہ! یہ گالی دینے والا کس کو گالی دے رہا تھا؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا! اس مدنی نے ان کو دو مرتبہ کہا: اے مغیرہ بن شعبہ! اے مغیرہ بن شعبہ! خبردار کہ میں سن رہا ہوں کہ تیرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا بھلا کہا جا رہا ہے نہ تو تعجب کر رہا ہے اور نہ ہی تو غیرت کھا رہا ہے! میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بات کی کہ میرے دونوں کانوں نے سنا: اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا: یقینا ہرگز میں روایت نہیں کرتا ان کے چلے جانے کے بعد جھوٹ کے ڈر سے۔ پس وہ مجھ سے پوچھیں گے جب وہ مجھے ملیں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، اور عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں۔ طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہیں، اور سعد جنت میں ہیں۔ اور آخری نواں اگر میں اس کا نام لینا چاہوں تو میں اس کا نام لے سکتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر مسجد والے نکلے ان کو قسمیں دے کر پوچھ رہے تھے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی! نواں کون تھا؟ انہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے قسم دی اور اللہ بہت عظیم ہے۔ میں مومنوں میں سے نواں شخص ہوں۔ اور اللہ کے نبی 5 دسویں ہیں۔ پھر اس کے بعد بیان کیا: اللہ کی قسم وہ مقام جس میں صحابہ میں سے ایک آدمی اللہ کے راستہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا جہاں اس کا چہرہ خاک آلود ہوا ہو تو وہ تم میں سے ہر ایک کے عمل سے افضل ہوگا اگرچہ اس کو حضرت نوح علیہ السلام جتنی عمر دے دی گئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34114، ترقيم محمد عوامة 32609)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34114 in Urdu