مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
ترقیم عوامۃ: 32743 ترقیم الشثری: -- 34251
٣٤٢٥١ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن الحكم والمنهال وعيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: كان علي يخرج في الشتاء في إزار ورداء ثوبين خفيفين، وفي الصيف في القباء المحشو والثوب الثقيل، فقال الناس لعبد الرحمن: لو قلت لابيك فإنه (يسهر) (١) معه، فسالت ابي فقلت: إن الناس قد راوا من امير المؤمنين شيئا استنكروه، (قال) (٢) : وما ذاك؛ (قالوا) (٣) : يخرج في الحر الشديد في القباء، المحشو والثوب الثقيل ولا يبالي ذلك، ويخرج في البرد الشديد في الثوبين ⦗٦٠⦘ الخفيفين والملاءتين لا يبالي ذلك، ولا يتقي بردا، فهل سمعت في ذلك شيئا، فقد امروني ان اسالك ان تساله إذا سمرت عنده، فسمر عنده، فقال: يا امير المؤمنين إن الناس قد تفقدوا منك شيئا، قال: وما هو؟ قال: تخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل، وتخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين وفي الملاءتين لا تبالي ذلك ولا تتقي بردا، قال: وما كنت معنا يا ابا ليلى بخيبر؟ قال: قلت: بلى والله قد كنت معكم، قال: فإن رسول الله ﷺ بعث ابا بكر فسار بالناس فانهزم حتى رجع إليه، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله ﷺ:"لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله له ليس بفرار"، فارسل إلي فدعاني فاتيته وانا ارمد لا ابصر شيئا، فتفل في عيني وقال:"اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في مصادر التخريج: (يسمر).
(٢) في [أ، ب]: (قالوا).
(٣) في [ط، هـ]: (قال).
(٤) ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، والحاكم ٣/ ٣٧، والبزار (٤٩٦)، والنسائي في الخصائص (١٤)، وسيأتي ١٤/ ٤٦٤.
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت منھال رحمہ اللہ اور حضرت عیسیٰ رحمہ اللہ، یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں تہہ بند اور چادر دو باریک کپڑوں میں نکلتے تھے۔ اور گرمیوں میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے! تو لوگ حضرت عبدالرحمن سے کہنے لگے: اگر آپ رحمہ اللہ اپنے والد سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتلا دیں گے اس لیے کہ وہ رات کو ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد سے پوچھا: کہ لوگ امیر المؤمنین میں ایسی چیز دیکھتے ہیں جس کو وہ عجیب سمجھتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور سخت سردی میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چھوٹی چادروں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس چیز کی بالکل پروا بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچتے ہیں۔ کیا آپ رحمہ اللہ نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟ اس لیے کہ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے کہوں کے آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب رات کو بات کریں تو اس بارے میں دریافت کریں۔ پس جب رات کو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی تو ان سے کہا: اے امیر المؤمنین: لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی ایک چیز کا جائز ہ لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5 اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34251، ترقيم محمد عوامة 32743)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34251 in Urdu