🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. في الفارس كم يقسم له؟ من قال: ثلاثة أسهم؟
گھوڑا سوار کو کتنا حصہ ملے گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33854 ترقیم الشثری: -- 35394
٣٥٣٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا عمرو بن ميمون قال: كتب عمر ابن عبد العزيز إلى اهل الجزيرة اما بعد: فإن السهام كانت على عهد رسول الله ﷺ: سهمين للفرس، وسهما للرجل، فلم اظن ان احدا هم بانتقاص فريضة منها حتى فعل ذلك رجال ممن يقاتل هذه الحصون، فاعيدوا سهمانها على ما كانت عليه على عهد رسول الله ﷺ: سهمين للفرس وسهما للرجل، وكيف (توضع) (١) سهمان الخيل (وهي) (٢) بإذن الله لمسرحهم بالليل (ولمسالحهم) (٣) بالنهار، ولطلب ما يطلبون.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يوضع).
(٢) في [أ]: (فهي).
(٣) في [أ]: (ولمسامحهم)، وفي [ب]: (ولمسلحهم).

حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جزیرہ والوں کو لکھا: اما بعد! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں گھوڑے کیلئے دو اور سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، پھر کیوں کوئی شخص ان کے حصہ کو کم کرنے کے ارادہ سے شک اور تردد میں ڈالتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کو بنادیا ان میں سے جو لوگ ان قلعوں میں قتال کرتے ہیں جو حصے ان کے رسول اکرم 5 کے دور میں تھے وہ ان کو لوٹا دو، وہ حصے یہ تھے کہ گھوڑے کیلئے دو اور اس کے سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، گھوڑے کے حصہ کو کیسے کم کرتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے حکم سے رات میں چرا گاہ میں پھرتے ہیں، اور دن میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ گھوڑے وہی طلب کرتے ہیں جو مجاہدین طلب کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35394]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35394، ترقيم محمد عوامة 33854)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35394 in Urdu