مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
103. في البراذين: ما لها؟ وكيف يقسم لها؟
ترکی النسل گھوڑے کیلئے کتنا حصہ مقرر ہے؟
ترقیم عوامۃ: 33860 ترقیم الشثری: -- 35401
٣٥٤٠١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا عمرو بن ميمون قال: (كتب) (١) (جعونة) (٢) بن الحارث وكان يلي ثغر ملطيه إلى عمر بن عبد العزيز ان رجالا يغزون بخيل ضعاف: جذع او ثني، وليس فيها رد عن المسلمين ويغزو الرجل بالبرذون القوي الذي ليس دون الفرس إلا (انه) (٣) يقال: برذون فما يرى امير المؤمنين فيها؟ فكتب إليه عمر بن عبد العزيز: ان انظر ما كان من تلك الخيل الضعاف التي ليس فيها رد عن المسلمين فاعلم اصحابها انك غير مسهمها، انطلقوا بها ام (تركوا) (٤) وما كان من تلك البراذين رائع الجري والمنظر فاسهمه إسهامك للخيل العراب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (كتبت).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: بياض، وانظر: تاريخ دمشق ١١/ ٢٤٥، وحلية الأولياء ٥/ ٣٣٤، بغية الطلب ١٠/ ٤٣٥٥، فتوح البلدان ١/ ١٩٠.
(٣) في [هـ]: (أن).
(٤) في [جـ]: (اتركوا).
حضرت عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ حضرت جعونہ بن حارث رضی اللہ عنہ جب ملطیہ کے سر حد کے پاس تھے تو انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ لوگ مختلف گھوڑوں پر جہاد کرتے ہیں، کوئی جذع پر کوئی ثنی پر ہوتا ہے، اس میں مسلمانوں سے رد کرنا نہیں ہے، اور کوئی برذون گھوڑے پر جہاد کرتا ہے جو دوسرے گھوڑوں سے کم نہیں ہے یہاں تک کہ اس کو برذون کہا جاتا ہے، اے امیر المومنین آپ کی اس میں کیا رائے ہے؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جواب تحریر فرمایا: مختلف النسل جو گھوڑے ہیں جن کو مسلمانوں سے رد نہیں کیا جاتا ان کے سواروں کو بتادو کہ ان کے لیے (الگ کوئی) حصہ نہیں ہے۔ ان کو لے کر جاؤ چھوڑ دو، اور ترکی النسل جو گھوڑے ہیں جو دیکھنے میں خوشنما ہیں ان کو وہی حصہ دو جو عربی النسل گھوڑوں کے لیے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35401، ترقيم محمد عوامة 33860)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35401 in Urdu