🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
168. (الاكتناء) في الحرب
جنگ میں اپنی کنیت بیان کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34266 ترقیم الشثری: -- 35829
٣٥٨٢٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: ثنا هشام بن سعد قال: حدثني قيس بن (بشر) (١) (التغلبي) (٢) قال: كان ابي جليس ابي الدرداء بدمشق، وكان بدمشق رجل من اصحاب رسول الله ﷺ يقال له: ابن (الحنظلية) (٣) من الانصار، فمر بنا ذات يوم ونحن عند ابي الدرداء، فقال ابو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا (تضرك) (٤) ، ⦗٥٠٤⦘ قال: بعث رسول الله ﷺ سرية فقدمت، فاتى رجل منهم فجلس في المجلس الذي (٥) فيه رسول الله ﷺ فقال لرجل إلى جنبه: لو رايتنا حين لقينا العدو وحمل فلان فطعن فقال: خذها وانا الغلام الغفاري، فقال: ما اراه إلا قد (ابطل) (٦) اجره، فقال: ما ارى بذلك باسا، قال: فتنازعوا في ذلك واختلفوا حتى سمع ذلك النبي ﷺ فقال:"سبحان الله، لا باس ان يؤجر (و) (٧) يحمد"، فرايت ابا الدرداء سر بذلك حتى يرتفع حتى ارى انه سيبرك على ركبتيه ويقول: انت سمعته من رسول الله ﷺ؟ فيقول: نعم (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بشير).
(٢) في [ب]: (الثعلبي).
(٣) في [ط، هـ]: (حنظلية).
(٤) في [هـ]: (يضرك).
(٥) في [هـ]: زيادة (يجلس).
(٦) في [ط، هـ]: (بطل).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (أو).
(٨) حسن؛ هشام بن سعد صدوق، أخرجه أحمد ٤/ ١٧٩ (١٧٦٥٩)، وأبو داود (٤٠٨٩)، والحاكم ٢/ ١٠١، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٤٤)، وابن المبارك في الزهد (٥٨٣)، والبيهقي في الشعب (٦٢٠٤)، والطبراني (٥٦١٦)، وابن عساكر ١٠/ ٢٥٠، والمزي ٤/ ١٤٢.

حضرت قیس بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، دمشق میں ایک ابن الحنظلیہ نامی انصاری صحابی تھے، ایک دن جب میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو وہ ہمارے پاس سے گزرے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی بات سنائیے جو ہمیں تو فائدہ دے لیکن آپ کو نقصان نہ دے انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کیلئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو ان میں سے ایک شخص رسول اکرم 5 کی مجلس میں آ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنے ساتھ والے شخص سے کہا: اگر آپ وہ منظر دیکھ لیتے جب ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی فلاں شخص نے یہ کہہ کر دشمن کو نیزہ مارا کہ یہ لو میں غفاری غلام ہوں، دوسرے شخص نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کردیا ہے، اور پہلے والے شخص نے کہا کہ میرے خیال میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ان کا اس معاملہ میں تنازعہ ہوگیا اور اختلاف ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی بات پہنچ گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ (بطور تعجب) کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کو اجر دیا جائے گا اور اس کی تعریف کی جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ اس کو سن کر بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ اوپر اٹھے اور قریب تھا کہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دریافت کیا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے خود رسول اکرم 5 سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے خود سنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35829، ترقيم محمد عوامة 34266)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35829 in Urdu