مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. حديث اليمامة ومن شهدها
جنگ یمامہ کا تذکرہ
ترقیم عوامۃ: 34410 ترقیم الشثری: -- 35976
٣٥٩٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ثمامة بن انس عن انس قال: كنت بين يدي خالد بن الوليد وبين البراء يوم اليمامة. قال: فبعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين، [وجعل البراء يرعد فجعلت الحده إلى الارض وهو يقول: (إني اجدني) (١) افطر. قال: ثم بعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين] (٢) . ⦗٧⦘ قال: فنظر خالد إلى السماء ثم (بلد) (٣) إلى الارض، وكان يصنع ذلك إذا اراد الامر، ثم قال: يا براء، -وحد في نفسه (٤) -، قال: فقال: الآن؟ قال: فقال: نعم الآن. قال: فركب البراء فرسه فجعل يضربها بالسوط، وكاني انظر إليها (تمصع بذنبها) (٥) فحمد الله واثنى عليه وقال: يا اهل المدينة إنه لا مدينة لكم وإنما هو الله وحده والجنة، ثم حمل وحمل الناس معه، فانهزم اهل اليمامة حتى اتى حصنهم (فلقيه) (٦) محكم اليمامة، (فقال: يا براء) (٧) فضربه بالسيف فاتقاه البراء (بالحجفة) (٨) فاصاب (الحجفة) (٩) ، ثم ضربه البراء فصرعه فاخذ سيف محكم اليمامة فضربه به حتى انقطع، فقال: قبح الله ما بقي منك، ورمى (به) (١٠) وعاد إلى سيفه (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أي أحدني).
(٢) بين المعكوفين سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) أي: رفع صوته.
(٥) في [أ، ب]: (تضع ثديها)، وفي [هـ]: (تمضغ ثديها).
(٦) في [س]: (فلعنه).
(٧) سقط من: [أ، هـ].
(٨) في [هـ]: (بالجحفة).
(٩) في [هـ]: (الجحفة).
(١٠) سقط من: [أ، هـ].
(١١) صحيح.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لئے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انہیں سکون دینے کے لئے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لئے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے براء! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چناچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لئے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35976]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35976، ترقيم محمد عوامة 34410)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35976 in Urdu