مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
10. في توجيه عمر إلى الشام
سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
ترقیم عوامۃ: 34532 ترقیم الشثری: -- 36107
٣٦١٠٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: لما اتى ابو عبيدة الشام حصر هو واصحابه واصابهم جهد شديد (١) فكتب إليه عمر: سلام عليكم اما بعد فإنه لم تكن شدة إلا جعل الله بعدها فرجا، ولن يغلب عسر يسرين، وكتب إليه: ﴿ياايها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون﴾ [آل عمران: ٢٠٠] ، قال: وكتب إليه ابو عبيدة: سلام عليكم، اما بعد فإن الله قال: ﴿انما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الاموال والاولاد..﴾ [الحديد: ٢٠] إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب ابي عبيدة (فقراه) (٢) على الناس فقال: يا اهل المدينة! إنما كتب ابو عبيدة يعرض بكم ويحثكم على الجهاد، قال زيد: (قال ابي) (٣) : قال: إني لقائم في السوق (إذا قبل) (٤) قوم مبيضين قد هبطوا من الثنية فيهم حذيفة بن اليمان يبشرون، قال: فخرجت اشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا امير المؤمنين ابشر بنصر الله والفتح، فقال عمر: الله اكبر، رب قائل: لو كان خالد بن الوليد (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فقرأ).
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) في [جـ]: (إذ أقبل).
(٥) فيه ضعف؛ هشام بن سعد صدوق، له أوهام.
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ شام آئے تو وہ اور ان کے ساتھی گھیر لئے گئے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھاجس میں سلام کے بعد تحریر کیا کہ اللہ نے ہر پریشانی کے بعد آسانی رکھی ہے۔ کوئی ایک پریشانی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت بھی ان کی طرف لکھ بھیجی { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ } راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے انہیں جواب میں تحریر کیا {إِنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ } پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ کا خط لوگوں کو سنایا اور ان سے فرمایا کہ اے مدینہ والو! حضرت ابو عبیدہ تمہیں جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ کچھ لوگ وادی سے اترتے ہوئے آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں بھی خوشی میں باہر آیا اور حضرت عمر کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین اللہ کی مدد اور فتح کی خوشخبری ہو۔ حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ کاش خالد بن ولید ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36107، ترقيم محمد عوامة 34532)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36107 in Urdu