مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35152 ترقیم الشثری: -- 36726
٣٦٧٢٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن مجالد عن الشعبي عن المغيرة بن شعبة قال: قال موسى: يا رب (١) (ما لادنى) (٢) اهل الجنة منزلة؟ قال: رجل يبقى في الدمنة (حيث) (٣) (يحبس) (٤) الناس، قال: فيقال له: قم فادخل الجنة، قال: اين ادخل وقد سبقني الناس؟ قال: فيقال له: تمن اربعة ملوك من ملوك الدنيا ممن كنت تتمنى مثل ملكهم وسلطانهم، قال: فيقول: فلان، قال: فيعد اربعة ثم يقال له: تمن (بقلبك) (٥) ما شئت، قال: فيتمنى، قال: ثم يقال له: اشته ما شئت، قال: فيشتهي، قال: فيقال: لك هذا وعشرة اضعافه، قال: فقال موسى: ⦗١٦٠⦘ يا رب، فما لاهل صفوتك؟ قال: فقيل: هذا الذي اردت، قال: خلقت كرامتهم وعملتها بيدي، وختمت على خزائنها ما لا عين رات ولا خطر على قلب بشر، ثم تلا: ﴿فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون﴾ [السجدة: ١٧] (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قالا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (مالا)، وفي [هـ]: (أي عبدك أدنى).
(٣) في [هـ]: (بعد أن).
(٤) في [ط، هـ]: (يجلس).
(٥) في [ط، هـ]: (بقليل).
(٦) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٢٢٧)، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٠٤، وورد من طريق غيره، أخرجه مسلم (١٨٩)، وابن جرير ٢١/ ١٠٤، والطبراني ٢٠/ (٩٨٩)، وقد ورد مرفوعًا أخرجه مسلم (١٨٩)، والترمذي (٣١٩٨)، وابن حبان (٦٢١٦).
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ! ادنیٰ جنتی کا رتبہ کیا ہوگا؟ فرمایا ایک شخص جانوروں کے باڑہ میں باقی رہے گا (کوڑے خانے میں) اس طور پر کہ لوگوں نے اس کو محبوس کیا ہوگا، اس کو حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ عرض کرے گا کہاں سے داخل ہوجاؤں لوگوں نے تو مجھ سے سبقت کرلی ہے؟ اس کو کہا جائے گا دنیا کے چار بادشاہوں کی بادشاہت اور سلطنت کے بقدر تمنا اور خواہش کر وہ کہے گا فلاں بادشاہ پس وہ چار بادشاہوں کو گنے گا پھر اس کو کہا جائے گا اپنے دل میں جو جو چاہے خواہش کر وہ تمنا کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا جو چاہو خواہش کرلے، وہ خواہش کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا یہ سب بھی تیرے لیے ہے اور دس گنا اور بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ! آپ کے مخلص دوستوں کیلئے کیا نعمتیں ہیں؟ ان سے کہا گیا، یہ ہے جو میں نے ارادہ کیا ہے میں نے ان کے اکرام کیلئے بنایا ہے اور اپنے ہاتھ سے بنا کر ان پر مہر لگا دی ہے، جن نعمتوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36726، ترقيم محمد عوامة 35152)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36726 in Urdu