مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته
جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35315 ترقیم الشثری: -- 36889
٣٦٨٨٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن (حسان) (١) بن ابي المخارق عن ابي عبد الله الجدلي قال: اتيت بيت المقدس فإذا عبادة بن الصامت وعبد الله بن عمرو (و) (٢) كعب الاحبار يتحدثون في بيت المقدس، قال: فقال عبادة: إذا كان يوم القيامة جمع الناس في صعيد واحد فينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويقول الله: ﴿هذا يوم الفصل جمعناكم والاولين (٣٨) فإن كان لكم كيد فكيدون﴾ [المرسلات: ٣٨ - ٣٩] ، اليوم لا ⦗١٩٩⦘ ينجو مني جبار عنيد، ولا شيطان مريد، قال: فقال عبد الله بن عمرو: إنا نجد في الكتاب انه يخرج يومئذ عنق من النار فينطلق (معنقا) (٣) حتى إذا كان بين ظهراني الناس قال: يا ايها الناس إني بعثت إلى ثلاثة، انا اعرف بهم من (الوالد بولده) (٤) ومن الاخ باخيه، (لا يغنيهم) (٥) مني ورد ولا تخفيهم مني خافية: الذي جعل مع الله إلها آخر، وكل جبار عنيد، وكل شيطان مريد، قال: فينطوي عليهم فيقذفهم في النار قبل الحساب باربعين. قال حصين: (و) (٦) إما اربعين عاما او اربعين يوما، قال: ويهرع قوم إلى الجنة فتقول لهم الملائكة قفوا للحساب، (قال) (٧) : فيقولون: والله ما كانت لنا اموال وما كنا بعمال، قال: فيقول الله: صدق عبادي، انا (احق من) (٨) اوفى بعهده، ادخلوا الجنة، قال: فيدخلون الجنة قبل الحساب باربعين، إما قال: عاما وإما يوما (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (حسين).
(٢) في [أ، ب]: (بن).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (معنا).
(٤) في [ك]: (الولد بوالده).
(٥) في [ب]: (لأنفسهم).
(٦) في [أ، ب، جـ]: زيادة (و).
(٧) في [ب]: (قا).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) مجهول؛ لجهالة حسان بن أبي مخارق.
حضرت ابو عبد اللہ الجدلی فرماتے ہیں کہ جب میں بیت المقدس آیا تو وہاں پر میں نے حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما اور حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے پایا۔ حضرت عبادہ نے کہا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو جمع کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو کرو۔ آج مجھ سے کوئی سرکش ظالم اور شیطان نہیں بچ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب میں ملتا ہے کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور کہے گی کہ اے لوگو! مجھے تین قسم کے گناہ گاروں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ میں انہیں خوب جانتی ہوں۔ انہیں مجھ سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہر ظالم سرکش کی طرف بھیجا گیا ہے اور ہر باغی شیطان کی طرف بھیجا گیا ہے پھر وہ گردن ان لوگوں کو اچک لے گی اور حساب شروع ہونے سے چالیس دن یا چالیس سال پہلے انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک قوم تیزی سے جنت کی طرف جا رہی ہوگی۔ فرشتے ان سے کہیں گے حساب کے لیے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو مال دار تھے اور نہ حکمران تھے۔ ہمارا حساب کیسا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں وعدے کو پورا کرنے والا ہوں۔ جنت میں داخل ہو جاؤ پھر وہ حساب شروع ہونے سے چالیس دن پہلے یا چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36889، ترقيم محمد عوامة 35315)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36889 in Urdu