🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في سعة رحمة الله (تعالى)
اﷲ کی رحمت کی وسعت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35361 ترقیم الشثری: -- 36935
٣٦٩٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن ابي الصديق (الناجي) (١) عن ابي سعيد الخدري قال: لا اخبركم إلا ما سمعت من في رسول الله ﷺ سمعته اذناي ووعاه قلبي:"ان عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة، فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل، فاتاه فقال: إني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة؟ قال: بعدقتل تسعة وتسعين نفسا؟ قال: فانتضى سيفه فقتله، فاكمل به مائة، ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض، فدل على رجل فاتاه فقال: إني قتلت مائة نفس فهل لي من توبة؟ ⦗٢١٧⦘ قال: ومن يحول بينك وبين التوبة، اخرج من القرية الخبيثة التي انت فيها إلى القرية الصالحة قرية كذا وكذا، فاعبد ربك فيها، قال: فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له اجله في الطريق، قال: فاختصم فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقال إبليس: انا اولى به (إنه) (٢) لم يعصني ساعة قط، فقالت ملائكة الرحمة: إنه خرج تائبا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الناحي).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٧٠)، ومسلم (٢٧٦٦).

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: ایک شخص نے ایک کم سو بندوں کو قتل کیا پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے عالم کے متعلق دریافت کیا تو اس کو ایک عالم کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ اس عالم کے پاس آیا اور کہا میں نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں؟ عالم نے کہا ننانوے قتلوں کے بعد بھی توبہ؟ اس شخص نے اپنی تلوار نکال کر اس کو بھی قتل کر کے سو کی تعداد مکمل کردی۔ پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے کسی عالم کے متعلق دریافت کیا اس کو ایک عالم کا بتایا گیا تو وہ اس عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں؟ عالم نے اس سے کہا کہ اس بستی سے نکل جا جس میں تو ہے اور کسی نیکو کاروں کی بستی میں چلا جا، فلاں بستی میں چلا جا اور اپنے رب کی عبادت کر وہاں جا کر وہ شخص اس بستی میں جانے کیلئے نکلا، راستے میں اس کی موت کا وقت آگیا اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کا مخاصمہ ہوگیا، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی میری نافرمانی نہیں کی، رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ توبہ کے ارادہ سے نکلا تھا، اللہ نے ایک فرشتہ اور بھیجا وہ اپنا جھگڑا اس کے پاس لے گئے، اس فرشتہ نے کہا کہ دونوں بستیوں کو دیکھ لو کونسی بستی اس کے زیادہ قریب ہے جو قریب ہو اس کے ساتھ اس کو ملا دو، جب اس شخص کو اپنی موت کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹا اس نیکو کاروں کی بستی کی طرف، اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب کردیا اور اس نے بروں کی بستی کو دور کردیا پس اس کو نیک لوگوں کی بستی کے ساتھ ملا دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36935، ترقيم محمد عوامة 35361)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36935 in Urdu