🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. (ما ذكر عن داود ﵇
سیدنا داؤد علیہ السلام کا تذکرہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35389 ترقیم الشثری: -- 36965
٣٦٩٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما اصاب داود الخطيئة، وإنما كانت خطيئته انه لما (ابصر) (١) (امر بها) (٢) (فعزلها) (٣) فلم يقربها، فاتاه الخصمان (فتسورا) (٤) في المحراب، فلما ابصرهما قام إليهما فقال: اخرجا ⦗٢٢٩⦘ عني، ما جاء بكما إلي؟ قال: (فقالا) (٥) : إنما نكلمك بكلام يسير، إن هذا اخي له تسع وتسعون نعجة (ولي نعجة) (٦) واحدة، وهو يريد ان (ياخذها) (٧) مني، فقال داود: والله (إنه) (٨) (احق) (٩) ان يكسر منه من لدن (هذا) (١٠) إلى (هذا) (١١) -يعني من انفه إلى صدره- قال: فقال الرجل: فهذا داود قد فعله، فعرف داود (انه) (١٢) إنما يعنى (بذلك) (١٣) ، وعرف ذنبه فخر ساجدا اربعين يوما واربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل حتى (نبت البقل) (١٤) حوله من دموعه، ما غطى راسه فنادى بعد اربعين يوما: (قرح) (١٥) الجبين (وجمدت) (١٦) العين، وداود لم يرجع إليه في خطيئته (بشيء) (١٧) ، فنودي اجائع (١٨) فتطعم، او عريان فتكسى، (او) (١٩) مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج (ما) (٢٠) ثم من البقل حين لم يذكر ⦗٢٣٠⦘ ذنبه، فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن امامي، فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، فيقول (الله) (٢١) له: كن (من) (٢٢) خلفي، فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، قال: فيقول له: خذ بقدمي فياخذ بقدمه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (أمرها).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ، ب، هـ]: (فتسوروا).
(٥) في [هـ]: (قالا).
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [أ، ب]: (يأخذه).
(٨) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (إن).
(٩) في [أ، ب]: (أحد).
(١٠) في [أ، ب، جـ]: (هذه).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (هذه).
(١٢) سقط من: [جـ].
(١٣) في [س]: (ذلك).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [أ، ب]: (فجزع).
(١٦) في [أ، ب، جـ، س]: (وخمدت).
(١٧) في [أ، ط، هـ]: (شيء)
(١٨) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أنت).
(١٩) في [أ، ب، جـ، ع]: (أم).
(٢٠) في [س]: (ماء).
(٢١) سقط من: [هـ، ع].
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].

حضرت مجاہد کہتے ہیں: جب داؤد علیہ السلام سے لغزش ہوئی، اور ان کی لغزش کا بھی یہ عالم تھا کہ جونہی آپ کو اس کا احساس ہوا، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور ترک کردیا، اور دوبارہ کبھی اس کے قریب بھی نہ گئے، تو ان کے پاس دو جھگڑنے والے (اپنا جھگڑا لے کر) آئے، اور دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں جا گھسے۔ جب آپ نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور فرمایا: چلے جاؤمیرے پاس سے، کس لئے یوں اندر چلے آئے؟ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جواب دیا: ہم آپ سے چھوٹی سی بات کریں گے، یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک بھیڑ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایک بھیڑ) بھی مجھ سے ہتھیا لے۔ اس پر داؤد علیہ السلام نے فرمایا: بخدا یہ اس لائق ہے کہ اسے یہاں سے یہاں تک۔ یعنی ناک سے سینے تک۔ چیر دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: اس آدمی نے کہا: یہ ہیں داؤد جنہوں نے (اتنی آسانی سے فیصلہ) کر بھی دیا۔ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ انہیں تنبیہ کی گئی ہے، اور اپنی خطا کو بھی پہچان گئے۔ چناچہ آپ چالیس دن اور چالیس راتیں سجدے میں پڑے رہے، اور وہ لغزش آپ کے دست مبارک پر یوں تحریر تھی کہ آپ اسے دیکھتے رہتے، تاکہ غافل نہ ہوجائیں۔ (آہ وزاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ کے ارد گرد اتنا بلند سبزہ اگ آیا جس نے آپ کے سر کو بھی ڈھانپ لیا۔ چالیس دن کے بعد آپ پکار اٹھے: پیشانی زخم زدہ ہوگئی، آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں، لیکن داؤد کے قضیے کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر ندا سنائی دی: کیا بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلایا جائے، کیا بےلباس ہے کہ تجھے لباس پہنایا جائے، کیا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے۔ راوی کہتے ہیں: جب آپ نے دیکھا کہ (اس ندا میں) آپ کی خطا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تو آپ ایسی شدت سے روئے کہ آس پاس اگا ہوا سبزہ بھی خشک ہوگیا۔ (جب داؤد علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی) تو اس وقت آپ کی لغزش معاف فرما دی گئی۔ بس جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کے ربِ ذوالجلال ان سے فرمائیں گے: میرے سامنے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ عرض کریں گے: اے میرے پروردگار میرا گناہ (اس سے مانع ہے) میرا گناہ۔ اللہ جلّ شانہ فرمائیں گے: میرے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ (پھر) عرض کریں گے: اے میرے پالنہار میرا گناہ (مجھے حیا دلاتا ہے) میرا گناہ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے: میرے قدموں میں آجائیے۔ تو آپ علیہ السلام قدموں میں آجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36965، ترقيم محمد عوامة 35389)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36965 in Urdu