🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. كلام سليمان بن داود ﵉
سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی باتیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35413 ترقیم الشثری: -- 36989
٣٦٩٨٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن ابي الدرداء قال: مات ابن (لسليمان) (١) (بن داود) (٢) فوجد عليه وجدا شديدا حتى عرف ذلك فيه وفي قضائه، ⦗٢٣٨⦘ (فبرز) (٣) ذات يوم (ملكان) (٤) بين (يديه للخصوم) (٥) فقال احدهما: إني بذرت بذرا، حتى إذا اشتد واستحصد مر هذا به (افسده) (٦) ، فقال للآخر: ما تقول؟ فقال: صدق، اخذت الطريق فاتيت على زرع فنظرت يمينا وشمالا، فإذا الطريق عليه فاخذت عليه، فقال سليمان للآخر: (لم) (٧) بذرت على الطريق؟ اما علمت ان ماخذ الناس على الطريق؟ فقال: يا سليمان فلم تحزن على ابنك وانت تعلم انك ميت، وان سبيل الناس إلى الآخرة؟ (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سليمان).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (فتدر).
(٤) في [س]: (لمكان).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (يدي الخصوم).
(٦) في [جـ]: (وأفسده).
(٧) سقط من: (س).
(٨) ضعيف؛ عطاء بن السائب اختلط.

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے فوت ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے اس پر شدید رنج و غم محسوس کیا۔ حتی کہ ان کی شخصیت اور فیصلوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔ چناچہ ایک دن جب آپ (مجلسِ قضا میں) تشریف لائے تو دو فرشتے (انسانوں کی شکل میں) آپ کی خدمت میں ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لئے حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک بولا: میں نے بیج بویا، جب وہ پک کر کاٹنے کے قابل ہوگیا تو یہ (دوسرا شخص) وہاں سے گزرا اور اس کو برباد کر گیا۔ آپ علیہ السلام نے دوسرے سے دریافت فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: یہ سچ کہتا ہے۔ میں راستے پر جا رہا تھا کہ اس کے کھیت پر جا پہنچا، میں نے دائیں بائیں دیکھا مگر راستہ وہی تھا (جس پر اس نے کھیت اگا رکھا تھا)، چناچہ میں اس (کے کھیت) میں ہی چل پڑا (تو وہ خراب ہوگیا)۔ (یہ سنا) تو سلیمان علیہ السلام نے پہلے شخص سے دریافت فرمایا: تم نے راستے میں کیوں بیج بو دیا تھا؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ لوگوں نے تو راستے پر سے ہی گزرنا ہوتا ہے؟ اس پر اس شخص نے جواب دیا: اے سلیمان (علیہ السلام)! (اگر ایسا ہے) تو تم کیوں اپنے بیٹے پر (اتنا زیادہ) غمگین ہوتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایک دن تم بھی مرنے والے ہو، اور یہ (بھی جانتے ہو) کہ تمام لوگ آخرت کی جانب ہی رواں دواں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36989، ترقيم محمد عوامة 35413)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36989 in Urdu