مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (كلام أبي موسى ﵁)
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35963 ترقیم الشثری: -- 37547
٣٧٥٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن ابي موسى قال: تخرج نفس المؤمن وهي اطيب (ريحا من) (١) المسك، قال: (فيصعد) (٢) بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا (معكم؟) (٣) فيقولون: فلان -ويذكرونه باحسن عمله، فيقولون: حياكم الله وحيا من معكم، قال: فتفتح له ابو اب السماء، قال: فيشرق وجهه فياتي الرب ولوجهه برهان مثل الشمس، قال: واما الآخر فتخرج نفسه وهي انتن من الجيفة، فيصعد بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا ⦗٤٣٠⦘ ( (معكم؟) (٤) فيقولون: فلان) (٥) -ويذكرونه باسوا اعماله، قال: فيقولون: ردوه فما ظلمه الله شيئا (٦) ، قال: وقرا ابو موسى: ﴿ولا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط﴾ [الاعراف: ٤٠] (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (من ريح).
(٢) في [أ، ب]: (فتصعد).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [جـ، س].
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: بياض لكلمة (فيقولون فلان).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) ضعيف؛ لضعف عاصم بن أبي النجود في أبي وائل، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٢، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٢٢٨).
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح نکلتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر جن فرشتوں نے اس روح کو نکالا ہوتا ہے وہ فرشتے اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کو آسمان سے پہلے ہی اور فرشتے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ یہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں ہے اور فرشتے اس کا ذکر اس کے بہترین عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ اس پر سوال کرنے والے فرشتے کہتے ہیں: خدا تعالیٰ تم پر بھی رحمت کرے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس پر بھی رحمت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پس وہ پروردگار کے پاس آتا ہے تو اس کے چہرے میں سورج کی مثل دلیل موجود ہوتی ہے۔ فرمایا: اور جو دوسرا ہے اس کی روح نکلتی ہے جبکہ وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ جو فرشتے اس کو نکالتے ہیں وہ اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمان سے پہلے کچھ فرشتے انہیں ملتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں فلاں ہے۔ اور اس کے بدترین عمل کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر وہ فرشتے کہتے ہیں: اس کو واپس کردو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: { وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37547، ترقيم محمد عوامة 35963)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37547 in Urdu