مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجزئه (أنه يفعل) ذلك
سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37266 ترقیم الشثری: -- 38866
٣٨٨٦٦ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: اصاب عمر (ارضا) (١) بخيبر فاتى النبي ﷺ فساله عنها فقال: اصبت ارضا بخيبر لم اصب مالا قط عندي انفس منه، فما تامرنا فقال:"إن (شئت) (٢) حبست اصلها، وتصدقت بها"، قال: فتصدق بها عمر غير انه لا يباع اصلها ولا يوهب ولا يورث، فتصدق بها في الفقراء والقربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف، لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف، او يطعم صديقا غير متمول فيه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أرض).
(٢) في [أ، س]: (شيت).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٣٧)، ومسلم (١٦٣٢).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس زمین کی بابت سوال کیا، اور کہا کہ مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی کہ میرے خیال میں اس سے زیادہ بہترین مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو اس کے عین کو روک لے اور اس کو (یعنی اس کے نفع کو) صدقہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس کو صدقہ کردیا۔ لیکن یہ فرق باقی تھا کہ اس کے عین کو نہ بیچا گیا اور نہ ہدیہ ہوا۔ اور نہ ہی اس میں وراثت چلی، پس حضرت عمر نے اس (کے نفع) کو فقراء، قرابت داروں، غلاموں کی آزادی، فی سبیل اللہ، مسافروں اور مہمانوں پر صدقہ کردیا، جو آدمی کا وقف کا ولی ہو تو اس کو وقف میں سے خود بقدر ضرورت کھانا یا اپنے غیر متمول دوست کو کھلانے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38866]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38866، ترقيم محمد عوامة 37266)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 38866 in Urdu