مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
12. إسلام أبي ذر ﵁
سیدنا ابو ذررضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
ترقیم عوامۃ: 37753 ترقیم الشثری: -- 39358
٣٩٣٥٨ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (سليمان) (٢) ابن المغيرة قال: حدثنا حميد بن هلال قال: حدثنا عبد الله بن الصامت عن ابي ذر قال: خرجنا من قومنا غفار انا واخي انيس وامنا، وكانوا يحلون الشهر الحرام، فانطلقنا حتى نزلنا على خال لنا ذي مال وذي هيئة (طيبة) (٣) . قال: (فاكرمنا خالنا واحسن إلينا فحسدنا قومه فقالوا: إنك إذا خرجت من اهلك خالف إليهم انيس) (٤) ، قال: فجاء خالنا (فنثى) (٥) علينا ما قيل له، قال: قلت: اما ما مضى من معروفك فقد كدرته ولا جماع لك فيما بعد، قال: فقربنا صرمتنا فاحتملنا عليها، قال: وغطى راسه فجعل يبكي. قال: فانطلقنا حتى نزلنا بحضرة مكة، قال: فنافر انيس عن صرمتنا وعن ⦗٣٨٦⦘ (مثلها) (٦) قال: فاتيا الكاهن فخير انيس، قال: فاتانا انيس بصرمتنا ومثلها معها. قال: (٧) وقد صليت يا ابن اخي قبل ان القى رسول الله ﷺ ثلاث سنين، قال: قلت: لمن؟ قال: لله، قال: قلت: فاين كنت توجه؟ قال: حيث وجهني الله، اصلي عشاء حتى إذا كان آخر الليل القيت كاني خفاء حتى (تعلوني) (٨) الشمس. قال: قال انيس: (إن) (٩) لي حاجة بمكة فاكفني حتى آتيك، قال: (فانطلق) (١٠) فراث علي، ثم اتاني فقلت: ما حبسك؟ قال: لقيت رجلا بمكة على دينك يزعم ان الله ارسله، قال: قلت: فما يقول الناس له؟ قال: يزعمون انه ساحر وانه كاهن وانه شاعر، قال انيس: فوالله لقد سمعت قول الكهنة فما هو بقولهم، ولقد وضعت (قوله) (١١) على اقراء (الشعر) (١٢) فلا يلتئم على لسان احد انه (شعر) (١٣) ، والله إنه لصادق وإنهم لكاذبون، وكان انيس شاعرا، قال: قلت: اكفني اذهب فانظر، قال: (نعم) (١٤) وكن من اهل مكة على حذر، فإنهم قد شنفوا له وتجهموا له. قال: فانطلقت حتى قدمت مكة، قال: فتضيفت رجلا منهم، قال: قلت: اين الذي تدعونه الصابئ؟ قال: فاشار إلي، قال: الصابئ، قال: فمال ⦗٣٨٧⦘ علي اهل الوادي بكل مدرة وعظم حتى خررت مغشيا علي، قال: فارتفعت حين ارتفعت وكاني نصب احمر. قال: فاتيت زمزم فغسلت عني الدماء وشربت من مائها، قال: فبينما اهل مكة في ليلة قمراء اضحيان إذ ضرب الله على (اصمختهم) (١٥) ، قال: فما يطوف بالبيت احد منهم غير امراتين، قال: فاتتا علي وهما تدعوان إسافا ونائلة، قلت: انكحا (احدهما) (١٦) الاخرى، قال: فما ثناهما ذلك عن قولهما، قال: (فاتتا) (١٧) علي فقلت: (هن) (١٨) مثل (الخشبة) (١٩) غير (اني) (٢٠) لم اكن، قال: فانطلقتا (تولولان) (٢١) وتقولان: لو كان هاهنا احد من انفارنا. قال: فاستقبلهما رسول الله ﷺ وابو بكر وهما هابطان من الجبل، قال: ما لكما؟ قالتا: الصابئ بين الكعبة واستارها، (قالا) (٢٢) : ما قال لكما؟ قالتا: قال لنا كلمة تملا الفم. قال: وجاء رسول الله ﷺ حتى انتهى إلى الحجر فاستلمه هو وصاحبه، قال: وطاف بالبيت ثم صلى صلاته. قال: فاتيته حين قضى صلاته، قال: فكنت اول من حياه بتحية (السلام) (٢٣) ، قال:"وعليك ورحمة الله ممن انت؟" قلت: من غفار، قال: فاهوى بيده نحو راسه، قال: قلت في نفسي: كره اني انتميت إلى غفار. ⦗٣٨٨⦘ قال: فذهبت آخذ بيده، (قال) (٢٤) : (فقدعني) (٢٥) صاحبه، وكان اعلم به مني، فرفع راسه فقال،:"متى كنت هاهنا؟" قلت: قد كنت هاهنا منذ عشر من بين يوم وليلة، قال:"فمن كان يطعمك؟" قال: قلت: ما كان لي طعام غير ماء زمزم فسمنت حتى تكسرت عكن بطني، وما وجدت على كبدي سخفة جوع، فقال رسول الله ﷺ:"إنها مباركة إنها طعام طعم"، قال: فقال صاحبه: ائذن لي في إطعامه الليلة. فانطلق رسول الله ﷺ وابو بكر (وانطلقت) (٢٦) (معهما) (٢٧) قال: ففتح ابو بكر بابا فقبض إلي من زبيب الطائف، قال: فذلك اول طعام اكلته بها. قال: فلبثت (ما لبثت) (٢٨) او غبرت ثم لقيت رسول الله ﷺ، (فقال رسول الله ﷺ) (٢٩) :"إني قد وجهت إلى ارض ذات نخل -ولا احسبها إلا يثرب- فهل انت مبلغ عني قومك، لعل الله ان ينفعهم بك، وان ياجرك فيهم"، قلت: نعم. (٣٠) فانطلقت حتى اتيت انيسا فقال: ما صنعت؟ قلت: صنعت اني اسلمت وصدقت، قال انيس: وما بي رغبة عن دينك، إني قد اسلمت وصدقت، قال: (فاتينا) (٣١) امنا، (فقالت) (٣٢) : ما بي رغبة عن دينكما، فإني قد اسلمت وصدقت، ⦗٣٨٩⦘ قال: فاحتملنا حتى اتينا قومنا غفارا قال: فاسلم بعضهم قبل ان يقدم رسول الله ﷺ المدينة، (قال) (٣٣) : وكان يؤمهم إيماء بن (رحضة) (٣٤) وكان سيدهم، قال: وقال بقيتهم: إذا قدم رسول الله ﷺ اسلمنا. قال: فقدم رسول الله ﷺ المدينة فاسلم بقيتهم، قال: وجاءت اسلم فقالوا: إخواننا نسلم على الذي اسلموا عليه، قال: فاسلموا، (قال) (٣٥) : فقال رسول الله ﷺ:"غفار غفر الله لها، واسلم سالمها الله" (٣٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق].
(٢) في [جـ]: (سلمى).
(٣) في [ص]: (مخففة).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) أي: حدثنا، وفي [س]: (فثنى).
(٦) في [ط، هـ]: (مثلنا).
(٧) في [س]: زيادة (ولو).
(٨) في [س]: (تعلموني).
(٩) سقط من: [ق، هـ].
(١٠) في [جـ، س، ي]: (انطلق).
(١١) في [جـ]: (قولهم).
(١٢) في [جـ]: (الشعراء).
(١٣) في [س، ط، هـ]: (شاعر).
(١٤) في [هـ]: (نعيم).
(١٥) في [ق]: (أضمغتهم).
(١٦) في [جـ، س]: (إحداهما).
(١٧) في [أ، ب]: (فأتيا).
(١٨) في [ي]: (لهن).
(١٩) في [س]: (الحنشة).
(٢٠) في [أ، ب]: (أن).
(٢١) في [س، هـ]: (تولان).
(٢٢) في [ق]: (قال).
(٢٣) في [جـ، س، ع]: (الإسلام).
(٢٤) في [أ، ب، س]: (فقال).
(٢٥) أي: منعني، وفي [أ، ب]: (قدعني)، وفي [ق]: (ففدعني).
(٢٦) في [س، هـ]: (فانطلقت).
(٢٧) في [أ، ب، جـ]: (معهم).
(٢٨) سقط من: [ي].
(٢٩) سقط من: [ي].
(٣٠) في [أ، ب، ق]: زيادة (قال).
(٣١) في [ط، ق، هـ]: (فأتيت).
(٣٢) في [أ، ب:] (فقال).
(٣٣) في [أ، ب، جـ، س]: تكرر.
(٣٤) في [أ، ب]: (رخصة)، وفي [س]: (رخضة).
(٣٥) سقط من: [أ، ب].
(٣٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٧٣)، وأحمد (٢١٥٢٥).
حضرت ابو ذر بیان فرماتے ہیں کہ میں، میرا بھائی اُنیس اور میری والدہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے۔ قوم والے حرمت والے مہینوں کو حلال سمجھتے تھے۔ پس ہم چل دیئے یہاں تک کہ ہم اپنے ایک مالدار اور اچھی حالت والے ماموں کے ہاں اترے۔ فرماتے ہیں: انہوں نے ہمارا اکرام کیا اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی اور انہوں نے کہا۔ اگر تم اپنے اہل خانہ سے نکلو تو انیس ان کے ساتھ تمہارے (معاملہ کے) برخلاف معاملہ کرے گا۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس ہمارے ماموں ہمارے پاس آئے اور جو انہیں کہا گیا تھا انہوں نے وہ ہمیں بیان کردیا۔ ابو ذر کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ نے پہلے جو اچھا کام کیا تھا (اکرام اور احسان) آپ نے (اب) اس کو مکدر کردیا ہے (ہم) آپ کے پاس اب کے بعد جمع نہیں ہوں گے۔ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب ہوئے اور ہم ان پر سوار ہوگئے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ انہوں نے (ماموں نے) اپنا سر ڈھانپ لیا اور رونا شروع کردیا۔ ٢۔ ابو ذر کہتے ہیں: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شہر مکہ میں آ کر اترے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس انیس نے اپنے اونٹوں کے گلہ اور ویسے ہی دوسرے اونٹوں کے گلہ کے درمیان مفاخرت کی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر وہ دونوں (اُنیس اور دوسرے گلہ کا مالک) ایک کاہن کے پاس گئے تو اس نے انیس کو درست قرار دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر انیس ہمارے پاس اپنے اونٹوں کا گلہ اور اسی جیسا ایک اور گلہ لے کر آئے۔ ٣۔ ابو ذر فرماتے ہیں: اے بھتیجے! تحققی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملاقات کرنے سے تین سال قبل نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ (آپ نے) کس کے لئے نماز پڑھی؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کے لئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: آپ کس طرف رُخ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رُخ فرما دیتے میں عشاء پڑھ لیتا۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں یوں پایا جاتا جیسا کہ میں چادر ہوں یہاں تک کہ مجھ پر سورج بلند ہوتا۔ ٤۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ (مجھے) اُنیس نے کہا: مجھے مکہ میں کام ہے پس تم میرے واپس آنے تک میری ذمہ داریاں نبھاؤ۔ فرماتے ہیں: پس وہ چلے گئے اور انہوں نے دیر کردی۔ میرے پاس آئے اور میں نے کہا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے مکہ میں ایک آدمی سے ملاقات کی ہے جو تیرے (والے) دین پر ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رسول بنایا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: لوگ انہیں کیا کہتے ہیں؟ اُنیس نے کہا: لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ جادو گر ہے، وہ کاہن ہے، اور وہ شاعر ہے۔ اُنیس نے کہا: بخدا! میں نے کاہنوں کا کلام سُنا (ہوا) ہے لیکن وہ (کلام) کاہنوں کا کلام نہیں ہے۔ اور میں نے ان کے کلام کو شعر کی انواع میں رکھ کر دیکھا ہے تو وہ کسی کی زبان سے (بھی) شعر کے طور پر اداء ہونا مشکل ہے۔ بخدا! وہ آدمی سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت انیس شاعر (بھی) تھے۔ ٥۔ ابو ذر کہتے ہیں: میں نے کہا: تم میری جگہ کفایت (ذمہ داری) کرو۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔ بھائی نے کہا: ٹھیک ہے۔ لیکن اہل مکہ سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بد کلامی سے پیش آتے ہیں ابو ذر فرماتے ہیں۔ میں چل دیا یہاں تک کہ میں مکہ میں پہنچا۔ فرماتے ہیں۔ میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس مہمان بن گیا۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی کہہ کر پکارتے ہو۔ ابو ذر فرماتے ہیں: اس نے (لوگوں کو) میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ (پکڑو اس) صابی کو۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ پس اہل وادی نے مجھ پر مٹی کے ڈھیلے اور لوہے وغیرہ ہر چیز کے ساتھ برس پڑے یہاں تک کہ میں بےہوش ہر کر گرپڑا۔ فرماتے ہیں: پس جب مجھ سے اٹھا گیا۔ میں اٹھا۔ تو (مجھے یوں لگا) گویا کہ میں سُرخ تصویر ہوں۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ پس میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے خود سے خون کو دھویا اور مائِ زمزم کو پیا۔ ٦۔ ابو ذر کہتے ہیں؛: پس ایک روشن و صاف چاندنی رات کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر نیند طاری کردی۔ فرماتے ہیں: اہل مکّہ میں سے دو عورتوں کے سوا کوئی بیت اللہ کا طواف کرنے نہ آیا۔ ابو ذر کہتے ہیں: وہ دونوں عورتیں میرے پاس آئیں جبکہ وہ اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ میں نے کہا: ان دونوں میں سے ایک کا نکاح دوسرے سے کردو۔ فرماتے ہیں: یہ بات (بھی) انہیں ان کی گفتگو سے نہ روک سکی۔ فرماتے ہیں: پھر دو نوں میرے پاس آئیں تو میں نے کہا: لکڑی کی طرح ہیں۔ یہ بات میں نے صاف صاف کہہ دی۔ ابو ذر کہتے ہیں: پس وہ دونوں عورتیں چل پڑیں۔ چیخ و پکار کرتی ہوئی کہتی جا رہی تھیں۔ اگر یہاں پر ہماری قوم میں سے کوئی ہوتا تو … ٧۔ ابو ذر کہتے ہیں: ان عورتوں کو آگے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر ملے جبکہ یہ عورتی [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39358، ترقيم محمد عوامة 37753)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39358 in Urdu