مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
24. غزوة بدر الأولى
پہلا غزوہ بدر
ترقیم عوامۃ: 37806 ترقیم الشثری: -- 39413
٣٩٤١٣ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابو اسامة عن (مجالد) (٢) عن زياد بن علاقة عن سعد بن ابي وقاص (قال) (٣) : لما قدم رسول الله ﷺ المدينة جاءت (جهينة) (٤) فقالت: إنك قد نزلت بين اظهرنا فاوثق لنا حتى نامنك و (تامننا) (٥) فاوثق لهم، ولم يسلموا فبعثنا رسول الله ﷺ في رجب ولا نكون مائة، وامرنا ان نغير على حي من كنانة إلى جنب جهينة، قال: فاغرنا عليهم وكانوا كثيرا فلجانا إلى جهينة (٦) ، وقالوا: لم تقاتلون في الشهر الحرام؟ فقلنا: إنما نقاتل من اخرجنا من البلد الحرام في الشهر الحرام، (فقال) (٧) بعضنا لبعض: (ما ترون؟) (٨) (فقالوا) (٩) : ناتي رسول الله ﷺ فنخبره، وقال قوم: لا، بل نقيم هاهنا، وقلت انا في اناس معي: لا، بل ناتي عير قريش هذه فنصيبها، فانطلقنا إلى العير، وكان الفيء إذ ذاك من اخذ شيئا فهو له، فانطلقنا إلى العير، وانطلق اصحابنا إلى النبي ﵊ (١٠) فاخبروه الخبر، فقام غضبان محمرا لونه ووجهه، فقال:"ذهبتم من عندي جميعا وجئتم متفرقين، إنما اهلك من كان قبلكم الفرقة، لابعثن عليكم ⦗٤٢٦⦘ رجلا ليس بخيركم، اصبركم على الجوع والعطش"، فبعث علينا عبد الله بن جحش الاسدي فكان اول امير في الإسلام (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ب، س]: (مجاهد).
(٣) في [س]: تكررت.
(٤) في [س]: (الجهينة).
(٥) في [أ، ب]: (تأمنا).
(٦) في [ق، هـ]: زيادة (فمنعونا).
(٧) في [أ، ب]: (وقال).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (وقالوا).
(١٠) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(١١) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه البزار (١٢٤٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ١٤، والدورقي في مسند سعد (١٣١)، وعبد اللَّه وجادة في زيادات المسند (١٥٣٩).
حضرت سعد بن ابو وقاص سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس) قبیلہ جہینہ والے آئے اور کہا۔ چونکہ آپ ہمارے درمیان فروکش ہوچکے ہیں پس آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کرلیں تاکہ ہم آپ کی طر ف سے مامون رہیں۔ اور آپ ہماری طرف سے مامون رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے معاہدہ کرلیا۔ اور ان لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہ رجب میں ایک لشکر کی شکل میں بھیجا۔ حالانکہ ہم لوگ سو کی تعداد میں بھی نہیں تھے۔ تاکہ ہم جہینہ قبیلہ کے پہلو میں موجود قبیلہ کنانہ پر حملہ کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے بنو کنانہ پر حملہ کیا تو وہ لوگ کثیر تعداد میں تھے۔ پس ہم نے جہینہ قبیلہ میں (آ کر) پناہ لی تو انہوں نے ہمیں پناہ سے روک دیا اور کہا۔ تم لوگوں نے شہر حرام میں کیوں لڑائی کی ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے انہیں لوگوں سے لڑائی کی ہے جنہوں نے ہمیں بلد حرام (مکہ) سے شہر حرام میں نکالا تھا۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے بعض سے پوچھا۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے پیغمبر کے پاس جاتے ہیں اور جا کر انہیں یہ بات بتاتے ہیں۔ اور ایک گروہ نے کہا: نہیں! بلکہ ہم یہیں قیام کرتے ہیں۔ اور میں نے چند لوگوں کی معیت میں یہ بات کہی کہ نہیں بلکہ قریش کے اس قافلہ کے پاس چلتے ہیں اور اس پر حملہ کرتے ہیں۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل پڑے۔ اس وقت فئی یہ تھا کہ جو کوئی جس چیز کو لے لے تو وہ اسی کی ہے۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل دیئے۔ اور ہمارے (بقیہ) ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک اور رنگ مبارک میں سرخی ظاہر ہونے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور تم متفرق طور پر واپس لوٹے ہو؟ تم سے پہلے لوگوں کو گروہ بندی نے ہی ہلاک کیا ہے۔ میں تم پر ضرور بالضرور ایسے شخص کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم میں سے (زیادہ) بہتر (بھی) نہیں۔ اور بھوک پیاس میں تم سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر عبد اللہ بن جحش کو امیر بنا کر بھیجا۔ یہ صاحب اسلام میں پہلے امیر بنے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39413، ترقيم محمد عوامة 37806)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39413 in Urdu