مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38268 ترقیم الشثری: -- 39896
٣٩٨٩٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن نجيح عن ابي التياح عن صخر بن بدر عن خالد بن سبيع -او، سبيع بن خالد- قال: اتيت الكوفة فجلبت منها دواب، فإني لفي مسجدها إذ جاء رجل قد اجتمع الناس عليه، فقلت: من هذا؟ قالوا: حذيفة ابن اليمان قال: فجلست إليه فقال:"كان الناس يسالون النبي ﷺ عن الخير، وكنت اساله عن الشر، قال: قلت: يا رسول الله! ارايت هذا الخير الذي كنا فيه هل كان قبله شر وهل كائن بعده شر؟ قال:"نعم"، قلت: فما العصمة منه؟ قال:"السيف"، قال: فقلت: يا رسول الله! فهل بعد السيف من بقية؟ قال:"نعم هدنة"، قال: قلت: يا رسول الله فما بعد الهدنة؟ قال:"دعاة الضلالة، فإن رايت خليفة فالزمه، وإن نهك ظهرك ضربا، واخذ مالك، فإن لم يكن خليفة فالهرب حتى ياتيك الموت، وانت عاض على شجرة"، قال: قلت: يا رسول الله فما بعد ذلك؟ قال:"خروج الدجال"، قال: قلت: يا رسول الله! (فما) (١) يجيء به الدجال؟ قال:"يجيء بنار ونهر، فمن وقع في ناره وجب اجره، و (حط) (٢) وزره، ⦗١٩٣⦘ [ومن وقع في نهره (حط) (٣) اجره ووجب وزره] (٤) "، قال: قلت: يا رسول الله! فما بعد الدجال؟ قال:" (لو) (٥) ان احدكم انتج فرسه ما ركب مهرها حتى تقوم الساعة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (وما).
(٢) في [أ، ب، س]: (حبط).
(٣) في [أ، ب، س]: (حبط).
(٤) ما بين المعكوفين سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [س].
(٦) مجهول؛ لجهالة صخر بن بدر، أخرجه أحمد (٢٣٤٢٥)، وأبو داود (٤٢٤)، وعبد الرزاق (٢٠٧١١)، والطيالسي (٤٤٣)، والبزار (٢٩٥٩)، والحاكم ٤/ ٤٣٢، وابن عدي ٢/ ٦٦٧، والبغوي (٤٢١٩)، وأبو عوانة (٧١٦٨)، وابن عساكر ١٢/ ٢٦٧، وبعضه عند البخاري (٧٠٨٤)، ومسلم (١٨٤٧).
حضرت خالد بن سبیع یا سبیع بن خالد فرماتے ہیں میں کوفہ آیا اور وہاں سے چوپائے ہانکے اور میں اس کی مسجد میں تھا اچانک ایک صاحب آئے لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان ہیں، راوی فرماتے ہیں میں ان کے پاس بیٹھ گیا پس انہوں نے فرمایا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اور میں ان سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان نے فرمایا میں نے عرض کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس برائی سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتلائیے یہ بھلائی جس میں ہم ہیں کیا اس سے پہلے برائی تھی اور کیا اس کے بعد برائی ہوگی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تلوار کے بعد کچھ باقی ہوگا ارشاد فرمایا: کہ ہاں صلح میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح کے بعد کیا ہوگا ارشاد فرمایا: گمراہی کی دعوت دینے والے پس تو اگر دیکھے کوئی خلیفہ تو اس کے ساتھ ہوجانا اگرچہ وہ تیری پشت پر مار کر سخت سزا دے اور تیرا مال لے لے اور اگر کوئی خلیفہ نہ ہو تو بھاگ جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کھانے والے ہو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کا نکلنا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کیا لائے گا، ارشاد فرمایا: آگ اور قہر لائے گا جو اس کی آگ میں پڑگیا اس کا اجر ضائع ہوجائے گا اور گناہ لازم ہوجائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی ایک کے گھوڑے کا بچہ ہو تو وہ اس کے پچھیرے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39896]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39896، ترقيم محمد عوامة 38268)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39896 in Urdu