مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38409 ترقیم الشثری: -- 40037
٤٠٠٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الله بن المخارق بن سليم عن ابيه قال: قال علي: إني لا ارى هؤلاء القوم إلا ظاهرين عليكم (لتفرقكم) (١) ⦗٢٤١⦘ عن حقكم واجتماعهم على باطلهم، كان الإمام ليس (بشاق) (٢) (شعرة) (٣) ، وإنه يخطئ ويصيب، فإذا كان عليكم إمام يعدل في الرعية ويقسم بالسوية فاسمعوا له واطيعوا، وإن الناس لا يصلحهم إلا إمام بر او فاجر، فإن كان برا فللراعي وللرعية، وإن كان فاجرا عبد فيه المؤمن ربه وعمل فيه الفاجر إلى اجله، وإنكم ستعرضون على سبي، وعلى البراءة مني، فمن سبني فهو في حل من سبي، ولا تبرؤا من ديني فإني على الإسلام (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بتفرقكم).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (يشاق)، وفي [س]: (بساق).
(٣) في [ط، هـ]: (سفره).
(٤) حسن؛ عبد اللَّه بن مخارق وأبوه صدوقان.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تمہارے حق پر اختلاف اور ان کے باطل پر اجتماع کی وجہ سے اور امام مال کو پھاڑنے والا تو نہیں ہوتا بلاشبہ وہ غلطی بھی کرتا ہے اور درستگی تک بھی پہنچ جاتا ہے پس اگر تمہارے اوپر ایسا امام مقرر ہو جو رعایا میں انصاف کرے اور برابر تقسیم کرے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور بلاشبہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا مگر امام نیک ہو یا فاجر پس اگر وہ نیک ہے تو نگہبان اور رعایا کے لیے ہے اور اگر فاجر ہے اس کے زمانے میں مومن اپنے رب کی عبادت کرے گا اور فاجر اپنے مقررہ وقت تک عمل کرے گا اور بلا شبہ تم سے عنقریب مجھے برا بھلا کہنے اور مجھ سے براءت کا مطالبہ کیا جائے گا جس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو میرے لیے بھی اس کو برا بھلا کہنا درست ہے اور میرے دین سے براءت کا اظہار نہ کرنا کیونکہ میں اسلام پر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40037]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40037، ترقيم محمد عوامة 38409)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40037 in Urdu