مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38421 ترقیم الشثری: -- 40049
٤٠٠٤٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ في حجة الوداع:"ايها الناس! اي يوم هذا؟" قالوا: يوم حرام، قال:"فاي بلد هذا؟" قالوا: بلد حرام، قال:"فاي شهر هذا؟" قالوا: شهر حرام، قال:"فإن (اموالكم ودماءكم) (١) واعراضكم عليكم حرام ⦗٢٤٥⦘ كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" -ثم اعادها مرارا، قال: ثم رفع راسه إلى السماء فقال:"اللهم هل بلغت؟"- مرارا، قال يقول ابن عباس: والله إنها لوصيته إلى ربه، ثم قال:"الا فليبلغ الشاهد الغائب: لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير (دمائكم وأموالكم).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٧٣٩)، وأحمد (٢٠٣٦).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40049]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40049، ترقيم محمد عوامة 38421)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40049 in Urdu