مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر في فتنة الدجال
یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
ترقیم عوامۃ: 38633 ترقیم الشثری: -- 40265
٤٠٢٦٥ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن ابي نضرة قال: اتينا عثمان بن ابي (العاص) (١) [في يوم جمعة لنعرض مصحفا لنا بمصحفه، فجلسنا إلى رجل يحدث، ثم جاء عثمان بن ابي (العاص) (٢) ] (٣) فتحولنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يكون للمسلمين ثلاثة امصار: (مصر) (٤) (بملتقى) (٥) البحرين، ومصر بالجزيرة، (ومصر) (٦) بالشام، (فيفزع) (٧) الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في (اعراض) (٨) جيش (ينهزم) (٩) من قبل المشرق، (فاول مصر (يرده) (١٠) المصر الذي) (١١) بملتقى البحرين فيصير اهله ثلاث فرق: فرقة تقيم (و) (١٢) (تقول) (١٣) (نشامه) (١٤) (وننظر) (١٥) ما هو؟ ⦗٣٢٨⦘ و (فرقة) (١٦) تلحق بالاعراب، وفرقة (تلحق) (١٧) بالمصر الذي يليهم، (١٨) [ومعه سبعون الفا عليهم (السيجان) (١٩) فاكثر (اتباعه) (٢٠) اليهود والنساء، ثم ياتي المصر الذي يليهم فيصير اهله ثلاث فرق: فرقة (تقيم) (٢١) وتقول (نشامه) (٢٢) وننظر ما هو؟ وفرقة تلحق بالاعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم] (٢٣) ، ثم ياتي الشام (فينحاز) (٢٤) المسلمون إلى عقبة افيق يبعثون سرحا لهم فيصاب (سرحهم) (٢٥) ، ويشتد ذلك عليهم، وتصيبهم مجاعة شديدة وجهد حتى إن احدهم ليحرق وتر قوسه فياكله، فبينما هم كذلك إذ نادى مناد من (السحر) (٢٦) : يا ايها الناس، اتاكم الغوث -ثلاث مرات، فيقول بعضهم لبعض: إن هذا الصوت لرجل شبعان، فينزل عيسى بن مريم (٢٧) عند صلاة الفجر فيقول له امير الناس: تقدم -يا روح الله- فصل بنا، فيقول: إنكم -معشر هذه الامة- امراء بعضكم على بعض، تقدم انت فصل ⦗٣٢٩⦘ بنا، فيتقدم الامير فيصلي بهم، فإذا انصرف اخذ عيسى (٢٨) حربته فيذهب نحو الدجال، فإذا رآه ذاب كما يذوب الرصاص، ويضع حربته بين (ثدييه) (٢٩) فيقتله، ثم ينهزم اصحا (به) (٣٠) " (٣١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع، هـ]: (العاصي).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [ع]: (بملتقا).
(٦) في [ع]: (مصرع).
(٧) في [ب]: (فليفزع).
(٨) في [ع]: (اعتراض).
(٩) في [س]: (سيهزم).
(١٠) في [ب]: (برد).
(١١) في [س]: (وقال: مصر يرد المصر الذي).
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) في [ب]: (يقول).
(١٤) في [س]: (بشامة)، أي: نقرب منه لنعرف حاله.
(١٥) في [أ، س، ع]: (تنظر).
(١٦) في [س]: (فرقته).
(١٧) في [أ، ب]: (تقيم).
(١٨) في [ع]: زيادة (ثم في الشام).
(١٩) في [س]: (التيجان).
(٢٠) في [ب، س]: (تباعه).
(٢١) في [ع]: (يقيم).
(٢٢) في [س]: (بشامة)، وفي [ع]: (تشامة).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢٤) في [أ، ب، س]: (فيجاز).
(٢٥) في [جـ]: (مرحهم).
(٢٦) في [ع]: (التسجر).
(٢٧) في [جـ]: زيادة (عليما السلام).
(٢٨) في [جـ]: زيادة ﵇.
(٢٩) في [ط، هـ]: (ثندوته).
(٣٠) سقط من: [س].
(٣١) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (١٧٩٠٠)، والحاكم ٤/ ٤٧٨، والطبراني (٨٣٩٢).
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم جمعے والے دن حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس آئے تا کہ ہم اپنے (لکھے ہوئے) صحیفے کا انکے صحیفے کے ساتھ موازنہ کریں پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص تشریف لائے ہم ان کے گرد جمع ہوگئے حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ایک شہر تو دو سمندروں کے سنگھم پر ہوگا اور ایک شہر جزیرہ میں ہوگا ایک شہر شام میں ہوگا پس لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر دجال جنگی لشکروں میں نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھاجائے گا پہلا شہر جس میں وہ جائے گا وہ شہر ہوگا جو دو سمندروں کے سنگھم میں پر ہوگا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں ہوجائیں گے ایک گروہ وہاں اقامت اختیار کرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہو کر دیکھتے ہیں وہ کیا ہے اور ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور ایک گروہ ساتھ والے شہر میں چلاجائے گا اس کے (یعنی دجال کے ساتھ) ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر سبز چادریں ہوں گی اس کے اکثر متبعین یہودی اور عورتیں ہوں گی پھر ان کے پاس والے شہر میں آئے گا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو وہیں ٹھہرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہوں گے اور دیکھیں گے وہ کیا ہے ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور تیسرا گروہ اپنے پاس والے شہر میں چلا جائے گا پھر شام جائے گا مسلمان عقبہ افیق مقام میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنے مویشیوں کو بھیجیں گے ان کے مویشیوں کو نقصان پہنچے گا یہ بات ان پر گراں ہوجائے گی ان کو سخت بھوک اور مشقت پہنچے گی یہاں تک کہ ان میں ایک اپنی کمان کی تانت کو جلائے گا اور اسے کھالے گا لوگ اس حالت پر ہوں گے سحر کے وقت ایک پکارنے والا پکارے گا اے لوگو تمہاری مدد آگئی یہ تین مرتبہ ندا دے گا وہ ایک دوسرے سے کہیں گے بلاشبہ یہ آواز ایک سیر شدہ آدمی کی آواز ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور ان سے لوگوں کے امیر کہیں گے اے روح اللہ! آگے بڑھیں ہمیں نماز پڑھائیں (ان سے) حضرت عیسیٰ فرمائیں گے تم اس امت کی جماعت ایک دوسرے پر امراء ہو تم آگے بڑھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ وہ امیر آگے بڑھیں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے عیسیٰ اپنا نیزہ پکڑیں گے اور دجال کی طرف جائیں گے وہ دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے اس کے سینے کے درمیان اپنا نیزہ رکھیں گے اور اسے قتل کردیں گے پھر اس کے ساتھی شکست خوردہ ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40265، ترقيم محمد عوامة 38633)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40265 in Urdu