مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38925 ترقیم الشثری: -- 40573
٤٠٥٧٣ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد قال: (اخبرنا) (٢) قيس قال: رمى مروان بن الحكم يوم الجمل طلحة بسهم في ركبته، قال: ⦗٤٨٢⦘ فجعل الدم (يغذو الدم) (٣) يسيل، قال: (فإذا) (٤) امسكوه (امتسك) (٥) ، وإذا تركوه سال، قال: فقال: دعوه، قال: وجعلوا إذا امسكوا فم الجرح انتفخت ركبته، فقال: دعوه (فإنما) (٦) هو سهم ارسله الله، قال: فمات، (قال) (٧) : فدفناه على شاطئ الكلاء، فراى بعض اهله انه قال: الا تريحونني من (هذا) (٨) الماء؟ فإني قد غرقت -ثلاث مرار يقولها، قال: فنبشوه فإذا هو اخضر (كانه السلق) (٩) فنزفوا عنه الماء ثم (استخرجوه) (١٠) ، فإذا ما يلي الارض من لحيته ووجهه قد اكلته الارض، فاشتروا له (دارا) (١١) من دور آل ابي بكرة بعشرة آلاف فدفنوه فيها (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٣) في [هـ]: (يغدو)، وفي [ط]: (بعد الدم).
(٤) في [ب]: (وإذا).
(٥) في [هـ]: (استمسك).
(٦) في [أ، ب]: (إنما).
(٧) سقط من: [ع].
(٨) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (كالسلق)، وفي [ط]: (كالسلف).
(١٠) في [هـ]: (استخرجوا).
(١١) في [س]: (دار).
(١٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٤١٨ (٥٥٩١)، وابن سعد ٣/ ٢٢٣، والطبراني ١/ (٢٠١) والخلال في السنة (٨٣٩)، وابن عساكر ٢٥/ ١١٢، وابن عبد البر في الاستيعاب ٢/ ٧٦٩.
قیس روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے حضرت طلحہ کے گھٹنے میں ایک تیر مارا جنگ جمل کے دن۔ پس اس سے خون بہنا شروع ہوا جب سب اس کو روکتے رک جاتا اور اسے چھوڑ دیتے پھر خون جاری ہوجاتا پس حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔ جب لوگوں نے زخم کے منہ کو روکنا چاہا تو گھٹنہ پھول گیا حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ تیر اللہ عزوجل کی طرف سے تھا پھر آپ کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے انہیں کلاء (دریا کنارے ایک بازار) کے ایک جانب دفن کردیا۔ ان کے گھر والوں میں سے کیپ نے انہیں خواب میں دیکھا کہ وہ فرما رہے ہیں! کیا تم مجھے پانی سے نجات نہیں دلاؤ گے؟ میں پانی میں ڈوب چکا ہوں یہ کلمات تین دفعہ فرمائے۔ ان کی قبر کو کھودا گیا تو وہ سبز ہوچکے تھے سلق (سبزی) کی طرح۔ لوگوں نے ان سے پانی کو دور کیا پھر ان کو وہاں سے نکالا تو جو حصہ زمین سے ملا ہوا تھا ان کی داڑھی اور چہرے میں سے اس کو زمین نے کھالیا تھا۔ ان کے لیے ابو بکرہ کی آل کے گھروں میں سے ایک گھر دس ہزار درہم کا خریدا اور اس میں حضرت طلحہ کو دفن کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40573، ترقيم محمد عوامة 38925)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40573 in Urdu